30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حدیث (٤): کہ فرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من مرعلی المقابر وقرأ قل ھواﷲ احد، احدٰی عشرۃ مرۃ ثم وھب اجرھا للاموات اعطی من الاجر بعدد الاموات ١[1]ہر کہ بگورستان گزرد وسورہ اخلاص یازدہ بارخواندہ بمردگان بخشد بشمار مردگان ثوابش دادہ شود۔ رواہ الدار قطنی والطبرانی والدیلمی والسلفی عن امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجھہ۔ حدیث (۵): کہ فرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا حج الرجل عن والدیہ تقبل منہ ومنھما[2] الحدیث چوں کسے ازوالدین خودش حج کند ہم ازقبول کردہ شود وہم ایشاں رواہ الدارقطنی عن زید بن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ پیداست کہ معنی قبول ہمیں عطائے ثواب ست کما نص علیہ العلماء ولذا قال فی التیسیر ای اثابہ واثابھما علیہ فیکتب لہ ثواب حجۃ مستقلۃ ولھما کذالك ٣[3]۔ حدیث (۶): کہ فرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من حج عن ابیہ اوعن امہ فقد قضی عنہ |
حدیث ۴: حضوراکرم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جو قبرستان سے گزرے اور سورہ اخلاص گیارہ بار پڑھ کراس کا ثواب مردوں کو بخش دے اسے مردوں کی تعداد کے برابر ثواب دیا جائے گا۔ اسے دارقطنی، ویلمی اور سلفی نے امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہ سے روایت کی ہے۔ حدیث ۵: رسول اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی اپنے والدین کی طر ف سے حج کرے تواس کی جانب سے بھی قبول کیا جائے اور ان کی جانب سے بھی ___ اسے دارقطنی نے حضرت زید بن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ظاہر ہے کہ قبول کامعنٰی یہاں ثواب دینا ہے۔ جیسا کہ علماء نے اس کی تصریح فرمائی۔ اسی لیے تیسیر میں فرمایا: یعنی اس پر اسے بھی ثواب دے اور اس کے ماں باپ کو بھی ثواب دے توا س کے لیے بھی مستقل حج لکھے او ران کے لیے بھی ویسا ہی۔ حدیث ۶: رسول انور صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے باپ یا ماں کی طرف سے حج کیا تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع