30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دہی از خود گم کنی، تانز دتست بدیگرے نہ رسد چوں بدیگرے رسد پیش تونماند این جابسعت فضل وکمال کرم رب العزۃ جل جلالہ ہم ثواب تونزد توماند۔ وہم بموہوب لہ پرسد بلکہ بایں کار خوب ثواب تودہ بالاشود ۔ پس این نفع بقصور وتجارۃ لن تبورا ست۔ درحدیث (١): است کہ حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسم فرمود من حج عن میّت فللذی حج مثل اجرہ ١[1]۔ ہر کہ از جانب مردہ حج کند مراد ر ا مثل ثواب آں میّت باشد رواہ الطبرانی فی الاوسط عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ حدیث (٢): کہ حضور اقدس صلوات اﷲ تعالی و سلامہ علیہ فرمود اذا تصدق احدکم بصدق تطوعا فلیجعلھا من ابویہ فیکون لھما اجرھا فلا ینقص من اجرہ شیئ [2]۔ چوں کسے از شما صدقہ نافلہ کردن خواہد باید کہ اورا از مادر وپدر خود گرداند کہ ایشاں راثواب اوباشد واز ثواب ایں کس چیز نکاہد رواہ الطبرانی فی الاوسط وابن عساکر عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ حدیث (٣): روی نحوہ الدیلمی فی مسند الفردوس عن معاویۃ بن حَیَدۃ القُشَیری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
یہ ہبہ مال کی طرح نہیں کہ مال جب کسی کو دیا تو اپنے پاس سے گیا۔ اور جب تك اپنے پاس ہے دوسرے کے پاس پہنچ جائیگا تو اپنے پاس نہ رہے گا۔ یہاں وسعتِ فضل الہٰی اور کمال ربانی سے ہدیہ کرنے والے کا ثواب خود اس کے پاس بھی رہتاہے، اور موہوب لہ کے پا س بھی پہنچتا ہے بلکہ اس عمل کی وجہ سے خود اس کا ثواب د س گنا ہوجاتاہے تو یہ ایسا نفع ہے جس میں کوئی کمی نہیں، اور ایسی تجارت ہے جس میں ہر گز کوئی خسارہ نہیں۔ حدیث ١: حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی وفات یافتہ کی جانب سے حج کرے اس کے لیے بھی ثواب میّت کے مثل ثواب ہو، اسے طبرانی نے معجم اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ حدیث ٢: حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نفل صدقہ کرنا چاہے توچاہیے کہ اسے اپنے ماں باپ کی جانب سے کردے کہ انھیں اس کا ثواب ملے گاا ور اس شخص کے ثواب سے کچھ کم نہ ہوگا۔ اسے طبرانی نے معجم اوسط میں اور ابن عساکر نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ حدیث٣: اسی کے ہم معنی دیلمی نے مسند الفردوس میں معاویہ بن حَیَدہ قُشَیری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع