30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ہمچناں انواع برکثیر ووافراست ودرآنہائے وبرروئے صبیان مسلمین فراز نیست تازیانے یااندیشہ اونباشد ازیں ہمہ بگز روبالا تر شنو، ترامیر سد کہ پسر خود پسران ماذون ہر کرا خواہی کہ بے حاجت با ذن کسے و محجور را از ولی پر سیدہ در خصومات خویش وکیل کنی یامتاع خودت فروختن یاکالائے برائےتوخریدن فرمائی بےآ نکہ نام اجر ے درمیان باشد، ایں خود خبر تبرع چیست۔ اماروا داشتند کہ زیانے نہ پنداشتند بلکہ تصحیح عبارات او ر اسود نگاشتند، درجامع الصغار است فی وکالۃ الذخیرۃ اذا وکل صبیا یبیع عبدہ، او وکلہ بان یشتری لہ شیئا فباع واشتری جاز اذاکان یعقل ذلك فلا عھدۃ علی الصبی وانما العھدۃ علی الاٰمر، وکذلك لو وکل صبیا بالخصومۃ جاز بعد ان یکون الصبی بحیث یعقل مایقول ومایقال وھذہ المسئلۃ فی الحاصل علی وجہین اما ان یکون صبیہ اوصبی غیرہ فان وکل صبیہ جاز ولایستامر احد ا وان وکل صبی غیرہ فان کان ماذونا لہ فی التجارۃ لایستامرولیہ فان اذن ولیہ جاز لہ ان یوکلہ وھذا لان استعمال صبی الغیر بغیر اذن الولی لایجوز، وباذنہ یجوز، قالو اوھذہ المسئلۃ روایۃ ان للاب ان یعیرہ ولدہ وقد اتفق علیہ المشائخ وھل لہ ان یعیر مال ولدہ بعض المتاخرین |
اس طرح کی بہت سی اور کثیر نیکیاں ہیں ____ اور ان کا دروازہ مسلمان بچوں پر بند نہیں جب تك کہ کوئی نقصان یا اندیشہ نقصان نہ ہو۔ان سب سے آگے بڑھئے اور بلند تر سنئے ____ انسان اپنے لڑکے کو، یا ماذون لڑکوں میں سے جس کو چاہے ____ بغیر اس کے کہ کسی کے اذن کی حاجت ہو ___ اور محجور ہو تو اس کے ولی سے پوچھ کر، اپنے مقدمات میں وکیل بناسکتا ہے یا اسے اپنا سامان بیچنے یااپنے لیے کوئی سامان خریدنے کاحکم دے سکتا ہے، بغیر اس کے کہ درمیان میں کسی اجرت کا نام ہو ___ یہ خود تبرُّع نہیں تو اور کیا ہے؟ مگر علما نے اسے ناجائز رکھا کیونکہ اس میں کوئی نقصان نہ سمجھا، بلکہ اس کی عبارت کی تصحیح کو فائدہ قراردیا۔ جامع الصغار میں ہے: ذخیرہ کتاب الوکالۃ میں ہے: اپناغلام بیچنے کے لیے کسی بچے کو وکیل بنایا اور بچے نے خرید وفروخت کیا تو جائز ہے جبکہ بچہ اسے سمجھتاہو اور ذمہ بچے پر نہیں بلکہ آمر پر ہوگا ____ اسی طرح اگر کسی بچے کو مقدمے کا وکیل بنایا تو جائزہے جبکہ یہ سمجھتا ہو کہ خود کیا کہہ رہاہے اور اس سے کیا کہا جارہا ہے، بلحاظ حاصل اس مسئلہ کی دوصورتیں ہیں: (١) یا تو خود اس کا بچہ ہوگا (٢) یا دوسرے کا ہوگا، اگر اپنے بچہ کو وکیل بنایا تو جائز ہے اور کسی سے اجازت نہیں لینا ہے۔اور اگر دوسرے کے بچے کو وکیل بنایا تو (دو حالت ہے) اگر وہ تجارت کے لیے ماذون تھا توا س کے ولی سے اجازت لے ___ اگر اس نے اجازت دے دی تو اسے وکیل بنانا جائز ہے ____ یہ اس لیے کہ دوسرے کے بچے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع