30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نہایت آنچہ اینجا بخاطر خطور تو ان کرد آن ست کہ نزد اصحاب معشر حنفیہ عمہم اﷲ بالطافہ الخفیہ ۔ این کار ہبہ ثواب وابدائے آنست وصبی ازاہل تبرع نیست۔ اقول: وباﷲ التوفیق صبی عاقل ازہر گونہ تبرع محجورنیست۔ منشائے حجر ہمیں ضررست ۔ ولو فی الحال کما فی القرض ولوبالا حتمال کمافی البیع آنجا کہ ہیچ ضرر نیست در حجر نظر نیست بنلکہ خلاف نظر وعین اضرار ست کہ بمشابہ الحاق اوبجماد واحجار ست۔ آخر نہ بینی کہ صبی بالاجماع ازاہل ابتداء بسلام است بلکہ مودبش را با ید کہ اگرخود گرنبا شد تعلمیش نماید۔ حالانکہ این نیز از باب تبرع است تاآنکہ درحدیث او را صدقہ نامیدہ اند ابو داؤد عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی حدیث قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تسلیمہ علی من لقی صدقۃ [1]۔ ہمچنان بابرادر خود بکشادہ روی سخن فرمودن وباظہار بشاشت دندان سپیدہ نمودن البخاری فی الادب المفرد والترمذی وابن حبان فی صحیحھما عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تبسمك فی وجہ اخیك لك صدقۃ [2]۔
|
ثواب"دوسرے"(اپنے غیر) کے لیے کرسکتا ہے"___ تو اس میں ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بھی داخل ہیں ا س لیے کہ وہ ا س کے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ حضور نے ہی ہمیں گمراہی سے نجات دی اھ (ت)زیادہ سے زیادہ جو شبہ یہاں دل میں گزرسکتا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے علمائے حنفیہ کے نزدیك ____ ان پر اﷲ کی پوشیدہ عنایتیں عام ہوں ___ یہ عمل ثواب کا ہبہ اور ہدیہ ہے اور بچہ تبرّع (اپنی طرف سے بھلائی اور احسان کے طور پر کچھ کرنے) کا اہل نہیں ہے ۔(ت) اقول: وباﷲ التوفیق (میں کہتا ہوں ،ا ور توفیق خداہی سے ہے۔ ت) عاقل بچہ ہر طرح کے تصرف سے محجور نہیں (حَجْر کا معنٰی تصرف سے روك دینا) حجر کا منشا یہی ضرر ہے اگر چہ فی الحال نقصان ہو جیسے قرض دینے میں یااس کا احتمال ہو جیسے بیع میں ___ جہاں کوئی ضرر نہیں وہاں حجر میں نظر اور بچہ کی رعایت نہیں بلکہ یہ خلاف نظر اور بعینہٖ ضرر رسانی ہے کہ گویا اسے جماد اور پتھر سے لاحق کردینا ہے۔دیکھئے کہ بچہ بالاجماع اس کا اہل ہے کہ سلام میں پہل کرے بلکہ ا س کے مربی کو چاہئے کہ اگر خود اس کا عادی نہ ہو تو اسے سکھا ئے حالانکہ یہ بھی تبرع ہی کے باب سے ہے یہاں تك کہ حدیث میں اسے صدقہ کانام دیاگیا ہے۔ ابوداؤد حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ایك حدیث میں راوی ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:"جو ملے اس سے سلام کرنا صدقہ ہے۔"اسی طرح اپنے بھائی سے کشادہ روئی سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع