30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
انسان رامی ر سد کہ ثوا ب اعمال خودش ازاں با غیرے کند کما نص علیہ فی الھدایۃ وشروحھا و الملتقی والدر و خزانۃ المفتین والھندیۃ وغیرھا من کتب المذہب۔ علمائے کرام ایں سخن راہمچناں مرسل ومطلق گزاشتہ اند وہیچ بو ئے از تخصیص وتقیید ندادہ، پس آن چنانکہ باطلاق اعمال برشمول فرائض وتناول عملیکہ ابتداء برائے خود بےنیت غیر کردہ باشد وبہ ارسال غیر بر دخول حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلٰوۃ و الثناء استدلال کردہ اند ہمچناں اطلاق انسان بردخول صبیان دلیلے کافی است تا آنکہ برہانے صحیح استثنائے آناں قائم شود و خو د آں برہان کجا وکدام ۔ فی ردالمحتار فی البحر بحثا ان اطلاقھم شامل للفریضۃ [1] اھ وفیہ' عنہ ان الظاھر انہ لافرق بین ان ینوی بہ عند الفعل للغیر اوبفعلہ لنفسہ ثم بعد ذلك یجعل ثوابہ لغیرہ لاطلاق کلامھم [2] اھ فیہ قلت وقول علمائنا لہ ان جعل ثواب عملہ لغیرہ یدخل فیہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فانہ احق بذلك حیث انقذنا من الضلالۃ [3] اھ۔ |
موجود ہیں کہ انسان اپنے اعمال کا ثواب دوسرے کے لیے کرسکتاہے۔جیسا کہ ہدایہ، شروح ہدایہ، ملتقی، درمختار، خزانۃ المفتین، ہندیہ وغیرہا کتب مذہب میں اس کی صراحت ہے (ت) علمائے کرام نے یہ کلام اسی طرح مُرسَل ومطلق رکھا ہے۔ کسی تخصیص وتقیید کا اشارہ ونشان نہ دیا___ تو جس طرح اعمال کو مطلق ذکر کرنے سے علماء نے یہ استدلال کیا کہ یہ حکم فرائض کوبھی شامل ہے اوراس عمل کو بھی جسے ابتداء میں اپنے لیے دوسرے کی نیت کے بغیر کیا ہو ___ اور جس طرح"غیر"کے عموم سے یہ استدلال کیا کہ اس میں حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلٰوۃ والثناء بھی داخل ہیں اسی طرح لفظ"انسان"مطلق مذکور ہونااس بات کی کافی دلیل ہے کہ اس میں بچے بھی داخل ہیں جب تك کہ کوئی صحیح برہان ان کے استثناء پر قائم نہ ہوجائے مگر ایسی برہان کہاں ا ور کون؟ (ت)ردالمحتار میں ہے: بحر میں بطور بحث ہے کہ علماء کا اعمال کو مطلق ذکر کرنا فرض کو بھی شامل ہے اھ اور اسی میں اسی بحر کے حوالے سے ہے: ظاہر یہ ہے کہ میرے نزدیك اس میں کوئی فرق نہیں کہ عمل کے وقت دوسرے کے لیے کرنے کی نیت کی ہو یا اپنے لیے کرنے کی نیت کی ہو، پھر ا س کا ثواب دوسرے کے لیے کردے۔ اس لیے کہ کلام علماء میں اطلاق ہے، ایسی کوئی قید نہیں اھ اسی میں ہے: میں نے کہا: ہمارے علما کا قول ہے کہ"وہ اپنے عمل کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع