30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مسئلہ درمیان علمائے بندر کراچی مباحثہ واختلاف افتادہ است آخر الامر طرفین بریں قرار دادہ اند کہ ہر جوابیکہ علمائے کرام بریلی دہند، بباید کہ جانبین تسلیم نمایند۔ |
وہاں کے علمائے اعلام کی مہریں ثبت فرماکر ارسال فرمائیں، خدا کے یہاں اجر پائیں گے اور لوگ شکر گزار ہوں گے ا س مسئلہ میں بندر کراچی کے علماء میں مباحثہ اور اختلاف واقع ہوا۔ آخر طرفین نے یہ طے کیا کہ بریلی کے علمائے کرام جو جواب دیں وہ جانبین تسلیم کریں۔ (ت) |
الجواب:
|
اللھم لك الحمد صل علی المصطفی واٰلہ العمد ہر قربتے کہ صبی اہل آنست (نہ ہمچو اعتاق و صدقہ وہبہ مال کہ اصلا از وصور ت نہ بندد) چو از صبی عاقل اداشود برقول جمہو ر ومذہب صحیح ومنصور ثوابش ہم ازان ا وباشد علامہ استروشنی درجامع صغار فرماید حسنات الصبی قبل ان یجری علیہ القلم للصبی لا لا بویہ لقولہ تعالٰی وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾ھذا قول عامۃ مشائخنا [1]۔علامہ زین العابدین ابن نجیم مصری دراحکام الصیبان از کتاب الاشباہ فرماید : تصح عباداتہ وان لم تجب علیہ واختلفوا فی ثوابھا والمعتمد انہ لہ وللمعلم ثواب التعلیم، وکذا جمیع حسناتہ [2]۔ باز علمائے مااصولًا وفروعًا تصریحات جلیہ دارند کہ |
اے اللہ! تیرے ہی لیے حمد ہے حضرت محمد مصطفی اور ان کی آل معتمد پر درود نازل فرما۔ ہر وہ قربت کہ بچہ جس کا اہل ہے (غلام آزاد کرنا، صدقہ کرنا، مال کا ہبہ کرنا اور اس طرح کی قربتیں نہیں، کہ یہ بچےّ سے واقع ہو نہیں سکتیں) جب عاقل بچّے سے وہ ادا ہوگی توقول جمہور اور مذہب صحیح و منصور یہ ہے کہ اس کا ثواب بھی بچے ہی کے لیے ہوگا، علامہ استروشنی جامع صغار میں فرماتے ہیں: بچے کی نیکیاں جواس پر قلم جاری ہونے سے قبل ہوں وہ بچے ہی کے لیے ہیں اس کے والدین کے لیے نہیں کیونکہ ارشاد باری ہے: انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کوشش کی___ یہ ہمارے عامہ مشائخ کا قول ہے ۔ (ت)علامہ زین العابدین ابن نجیم مصری کتاب الاشباہ کے احکام الصیبان میں فرماتے ہیں :بچے کی عبادتیں صحیح ہیں اگر چہ اس پر واجب نہیں ،ان کے ثواب کے بارے میں اختلاف ہے۔ معتمد یہ ہے کہ ثواب بچے ہی کے لیے ہوگا،ا ور معلم کو سکھا نے کا ثواب ملے گا۔ اسی طرح اس کی تمام نیکیوں کا حال ہے۔ (ت)پھر کتب اصول وفروع میں ہمارے علماء کی روشن تصریحات |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع