30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
باشد، ہم راست دیدہ باشد وآنکہ دربعضے دیگرازان صور درخانہ خودش دیدہ باشد ہم راست دیدہ باشد وبسو گند ہیچ یك حانث نہ شود، وشیخ مفرح فرمود کہ جواب صحیح این است کہ تو گفتی رضی اﷲ تعالٰی عنہ و نفعنابہ [1] |
کی روحانیت کسی صورت سے مصوَّر ہوسکے تو ممکن ہوتا ہے کہ ایك ہی وقت کے اندر مختلف جہتوں میں اپنے کو متعدد صورتوں میں جیسے چاہے دکھائے۔ تو جس شخص نے حضرت کوان صورتوں میں سے کسی ایك صورت میں عرفات میں دیکھا صحیح دیکھا، اور اسی وقت دوسرے نے کسی اور صورت میں اپنے گھر کے اندر تشریف فرما دیکھا اس نے بھی سچ دیکھا، اور کسی کی قسم نہ ٹوٹے گی، شیخ مفرح نے فرمایا: صحیح جواب یہ ہے کہ جوتم نے دیا ____ خدا ان سے راضی ہوا و رہمیں ان سے نفع دے (ت) |
حضرت میر سید عبدالواحد قدس سرہ، الماجد سبع سنابل شریف میں فرماتے ہیں:
|
مخدوم شیخ ابوالفتح جونپوری راقدس اﷲ تعالٰی روحہ، درماہ ربیع الاول بجہت عرس رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ازدہ جااستدعا آمدہ کہ بعد از نماز پیشین حاضر شوند ہر دہ استدعا راقبول کردند۔ حاضران پرسیدند اے مخد وم ہر دہ استدعاراقبول فرمود وہرجا بعدا ز نماز پیشین حاضرباید شد چگونہ میسر خواہد آمد۔ فرمود کِشن کہ کافر بود چند صد جاحاضرمی شد، اگر ابوالفتح دہ جاحاضر شود چہ عجب بعد از نماز پیشین از ہردہ جاچوڈول رسید مخدوم ہربارے از حجرہ بیرون می آمد برچوڈول سوار میشد و می رفت ونیز ودرحجرہ حاضر می ماند۔ خردمند ا تو ایں رابرتمثیل حمل مکن یعنی مپندار کہ تمثیلہائے شیخ بچندیں جاہا حاضر شدہ است۔ لاواﷲ بلکہ عین ذات شیخ بہر جا حاضر شدہ بود، ایں خوددریك شہرویك مقام واقع شد۔ وذات ایں موحد خود دراقصائے عالم |
ماہ ربیع الاول میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے عرس پاك کی وجہ سے مخدوم شیخ ابوالفتح جونپوری قدس سرہ، کی دس جگہ سے دعوت آئی کہ بعد نماز ظہر تشریف لائیں۔ حضرت نے دسوں دعوتیں قبول کیں۔ حاضرین نے پوچھا: حضور نے دسوں دعوتیں قبول فرمائی ہیں اور ہرجگہ نماز ظہر کے بعد پہنچنا ہے یہ کیسے میسر ہوگا؟ فرمایا: کِشن جو کافر تھا سیکڑوں جگہ حاضر ہوتا تھا اگر ابوالفتح دس جگہ حاضر ہوتو کیا عجب ہے؟ نماز ظہر کے بعد دسوں جگہ سے پالکی پہنچی، مخدوم ہربار حجرہ سے آتے، سوار ہوجاتے، تشریف لے جاتے اور حجرہ میں بھی موجود رہتے___ اے عقل مند! اسے تمثیل پر محمول نہ کرنا، یعنی یہ نہ سمجھنا کہ شیخ کی مثالیں اتنی جگہوں میں حاضر ہوئیں ۔ یہ تو ایك شہر اور ایك مقام میں واقع ہوا خود اس موحد کی ذات عالم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع