30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زہر الربٰی شرح سنن نسائی میں نقل فرما تے ہیں:
|
ان للروح شانا اخرفیکون فی الرفیق الاعلی وھی متصلۃ بالبدن بحیث اذاسلم المسلم علی صاحبہ ردعلیہ السلام وھی فی مکانھا ھناك وھذا جبریل علیہ السلام راہ النبی صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولہ ستمائۃ جناح منھا جناحان سدا الافق وکان ید نو من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حتی یضع رکبتیہ الی رکبتیہ ویدیہ علی فخذیہ وقلوب المخلصین تتسع للایمان بانہ من الممکن انہ کان ھذا الدنو وھو فی مستقرہ من السمٰوٰت، وھذا محمل تنزلہ تعالٰی الٰی سماء الدنیا ودنوہ عشیۃ عرفۃ ونحوہ فھو منزہ عن الحرکۃ والانتقال وانما یأتی الغلط ھھنا من قیاس الغائب علی الشاھدفیعتقد ان الروح من جنس مایعھد من الاجسام التی اذا شغلت مکانا لم یمکن ان تکون فی غیرہ وھذا غلط محض، فثبت بھذا انہ لا منافاۃ بین کون الروح فی علیین او الجنۃ اوالسماء وان لھا بالبدن اتصالا بحیث تدرك وتسمع وتصلی وتقرء بھا وانما یستغرب ھذالکون الشاھد الدنیوی لیس فیہ مایشاھد بہ ھذا وامور البرزخ والاٰخرۃ علٰی نمط غیر المالوف فی الدنیا [1] اھ مختصرًا۔ |
روح کی شان ہی کچھ اورہے وہ ملاء اعلٰی میں رہ کر بھی بدن سے متصل ہوتی ہے کہ جب مسلمان صاحب قبر کو سلام کرتاہے تو وہ اسے جواب دیتاہے جبکہ روح وہاں اپنے مقام میں ہے___ یہ حضرت جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام ہیں جنھیں نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس حالت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پَر ہیں جن میں سے دو پر پورے افق پر چھائے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود وہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے قریب آتے ہیں یہاں تك کہ اپنے زانو حضور کے زانوؤں کے متصل اور اپنے ہاتھ حضور کی رانوں پر رکھ دیتے ، مخلصین کے قلوب اس بات پر ایمان لانے کی وسعت رکھتے ہیں کہ یہ امر ممکن ہے کہ ان کا حضور سے یہ قرب عین اسی حالت میں ہو جب وہ آسمانوں کے اندر اپنے مستقر میں موجود ہوں۔ یہی حال اس کا بھی ہے جو مروی ہے کہ رب تعالٰی آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور قریب ہوتا ہے عرفہ کی شام کو اور اس کے مثل ، کیونکہ وہ تو حرکت وانتقال سے منزّہ ہے۔ یہاں غلطی غائب کو شاہد پر قیاس کرنے سے ہوتی ہے۔ آدمی یہ اعتقاد کرتاہے کہ روح بھی معہود اجسام کی جنس سے ہے کہ جب ایك مقام میں ہو تو دوسرے مقام میں ہونا ممکن نہیں، یہ محض غلط ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اس میں کوئی منافات نہیں کہ روح علیین ا ور جنت اور آسمان میں ہو اور بدن سے بھی اس کا ایسا اتصال ہو کہ ادراک، سماعت، نماز، قرأت سارے کام کرتی ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع