30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثواب کہ ہم شافعیہ کے نزدیك معروف ومعہود ہے کہ مثل ثواب قاری ہے۔ آیا اموات پر تقسیم ہوگا یا ہر ایك کو پورا ملے گا۔ روشن ہے کہ یہ ایك ہی سوال ہے اور اس میں مقصود بالاستفادہ تقسیم وتکمیل کی دو شقوں سے ایك متعین جس کا جواب امام نے دیا کہ ایك جماعت نے شق دوم پر فتوٰی دیا یعنی ہر ایك کو پوراثواب پہنچے گا اور یہی وسعتِ رحمت الہٰیہ کے لائق ہے نہ یہ کہ دوسوال تھے، پہلا مذہب حنفیہ اوردوسرا مذہب شافعیہ سے امام نے پہلے جواب سے سکوت کیاا ور د وسرے کا جواب دیا۔ یوں ہوتا تو تقسیم او رلکل منھم فضول تھا کہ حنفیہ وشافعیہ کا یہ اختلاف ایك جماعت اموات کے لیے قرأت سے خاص نہیں ایك میّت کے لیے قرأت بھی یہی ہے کہ ہمارے نزدیك نفس ثواب پہنچتاہے او ران کے نزدیك اس کا مثل ۔ ایسا ہوتا تو امام اس غلطی پر متنبہ فرماتے۔ پھر جواب یُوں نہ ہوتا کہ ایك جماعت نے ثانی پر فتوٰی دیا،بلکہ یوں ہوتا کہ ہمارا مذہب شق ثانی ہے پھر نفس ومثل میں سعتہ رحمت کا کیا فرق ہے جسے امام ھو اللائق بسعۃ الفضل فرمارہے ہیں۔ بکر کا استدلال کہ"ابن حجر کے قول ثانی کو الخ"عجیب ہے ۔ شق اول میں لفظ تقسیم خود مصرح ہے۔ سائل پوچھتا ہی یہ ہے کہ ثواب جو کچھ بھی پہنچے کہ وہ ان کے نزدیك مثل ثواب قاری ہے نہ نفس تقسیم ہوگا یا ہر ایك کو پورا پہنچے گا؟ امام نے جواب دیا کہ ہرایك کو پورا پہنچنا الیق ہے، تو قائلین وصول ثواب سے یہ بھی ہوئے۔ شق اول میں نفس ثواب القاری کہاں تھا۔
ثم اقول: وباﷲ التوفیق (میں پھر اﷲ تعالٰی کی مدد سے کہتاہوں ۔ت) یہاں تحقیق امر ا ور ہے جو شبہ کو راسًا ختم کردے۔ جب نظر عامہ اہل ظاہر پر شے واحد کا دو شخصوں کو بلاتقسیم وصول عقلًا ممتنع ہے یعنی عرض واحد دومحل سے قائم نہیں ہوسکے (ورنہ اس تعبیر میں تو صریح منع ہے) تو واجب کہ حنفیہ کے نزدیك جب نفس ثواب قاری میّت کو پہنچے قاری کے پاس نہ رہے، ورنہ یہ بھی عرض واحد کا دو محل سے قیام ہوگا حالانکہ احادیث وحنفیہ وسائر علماء کرام خلاف پر تصریح فرماہیں، محیط پھر تاتار خانیہ پھر ردالمحتار میں ہے :
|
الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المومنین والمؤمنات لانھا تصل الیھم ولا ینقص من اجرہ شیئ [1] ۔ |
صدقہ نفل کرنے والے کے لیے بہتر یہ ہے کہ تمام مومنین و مومنات کی نیت کرے کہ وہ سب کو پہنچے گا او راس ثواب سے کچھ کم نہ ہوگا (ت) |
تو جب وہی ثواب اس کے پاس بھی رہا اورد وسرے کو بھی پہنچا اور تقسیم نہ ہوا کہ لاینقص من اجرہ شیئ اس کے ثواب سے کچھ کم نہ ہوا، تقسیم ہوتا تو قطعًا کم ہوتا، توا گر دوسو یا لاکھ یا سب اولین وآخرین مومنین ومومنات کے وہی ثواب پورا پورا پہنچے اور تقسیم نہ ہو کیااستحالہ ہے، جیسے دو ویسے کروڑہا کروڑ۔ امام جلال الملۃ والدین سیوطی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع