30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور نتیجہ ا س کا دنیا میں ملے گا یا عقبٰی میں؟
دوسرے یہ کہ ثواب کس طرح کہہ کر پہنچائے؟
تیسرے یہ کہ حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی آلہٖ واصحابہٖ واہل بیتہٖ وسلم کو ثواب پہنچائے تو اس کی شمول میں اور ارواح بھی شامل کرسکتا ہے یا نہیں، اور پچھلے اولیاء اور انبیاء کا نام بھی لیا جائے یا نہیں؟
چوتھے یہ کہ دنیا میں کیا فائدہ او رعقبی میں کیا بدل حاصل ہوگا؟ بینو توجروا
الجواب:
اﷲ عزوجل کے فضل سے امید ہے کہ ہر شخص کو پورے کلام مجید کا ثواب پہنچے گا۔ ردالمحتار میں ہے:
|
سئل ابن حجرمکی عمالو قرأ لاھل المقبرۃ الفاتحۃ ھل یقسم الثواب بینھم اویصل لکل منھم مثل ثواب ذلك کاملا فاجاب بانہ افتی جمع بالثانی وھو اللائق بسعۃ الفضل ١[1]۔ |
امام ابن حجر مکی سے سوال ہوا: اگر قبرستان والوں کے لیے فاتحہ پڑھی تو ثواب ان کے درمیان تقسیم ہوگا یا ہر ایك کو اسی کے مثل پورا پوراثواب ملے گا؟۔ انھوں نے جواب دیا کہ ایك جماعت علماء نے دوسری صورت پر فتوٰی دیا ہے اور٣ وہی فضل الہٰی کی وسعت کے لائق ہے ۔(ت) |
ا س مسئلہ کی پوری تحقیق فتاوٰی فقیر میں ہے۔ نتیجہ ملنا اﷲ سبحٰنہ، وتعالٰی کے اختیار میں ہے مسلمانوں کو نفع رسانی سے اﷲ عزوجل کی رضا و رحمت ملتی ہے او راس کی رحمت دونوں جہان کا کام بنادیتی ہے۔ آدمی کو اﷲ کے کلام میں اﷲ کی نیت چاہئے۔ دنیا اس سے مقصود رکھنا حماقت ہے۔ دعا کرے کہ الہٰی! یہ جو میں نے پڑھا اس کا ثواب فلاں شخص یا فلاں فلاں اشخاص کو پہنچا، اور افضل یہ ہے کہ تمام مسلمین ومسلمات کو پہنچائے۔ مسلك متقسط میں ہے :
|
یقرأ ماتیسرلہ من الفاتحہ والاخلاص سبعا اوثلثا ثم یقول اللھم اوصل ثواب ماقرأ الٰی فلان او الیھم [2]۔ |
جو میسر آئے پڑھے سورہ فاتحہ، سورہ اخلاص سات بار یا تین بار۔ پھر کہے: اے اللہ! ہم نے جو پڑھا ا س کا ثواب فلاں کو یاان سب کو پہنچا۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع