30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر چار آدمیوں کو سب ہدیہ کیا توہر ایك کو چوتھائی ملے گا۔ (ت)
اقول: وباﷲ التوفیق علماء کہ سب کو ثواب کامل ملے گا، اس قولِ ابن قیم پر بچند وجہ مرجح ہے :
اولًا ابن قیم بد مذہب ہے، تواس کا قول علمائے اہلسنت کے مقابل معتبر نہیں۔
ثانیًا وہ اسی کا قول ہے اور یہ یك جماعت کا فتوٰی والعمل بما علیہ الاکثر (اور عمل اس پر ہوتا ہے جس پر اکثر ہوں ۔ت)
ثالثًا وھو الطراز المعلم (اور وہی نقش بانگارہے، یعنی زیادہ مضبوط جواب ہے۔ ت) ثواب واحدہ کا سب پر منقسم ہونا ایك ظاہری بات ہے جسے آدمی بنظرِ ظاہر اپنی رائے سے کہہ سکتا ہے۔ عالم شہود میں یونہی دیکھتے ہیں، ایك چیز دس کو دیجئے توسب کو پوری نہ ملے گا ہر ایك کو ٹکڑا ٹکڑا پہنچے گا۔ غالبًا اس ظاہری نے اسی ظاہری بات پر نظر اور معقول پر محسوس کو قیاس کرکے تقسیم کا حکم دے دیا۔ نہ کہ حدیث سے اس پر دلیل پائی ہو بخلاف اس حکم کمال کے کہ اگر کروڑوں کو بخشو توہر ایك کو پورا ثواب ملے گا، ایسی بات بے سند شرعی اپنی طرف سے نہیں کہہ سکتے توظاہر کہ جماعت اہل فتوٰی نے جب تك شرع مطہر سے دلیل نہ پائی ہر گز اس پر جزم نہ فرمایا بلکہ تصریح علماء سے ثابت کہ جوبات رائے سے نہ کہ سکیں وہ اگرچہ علماء کا ارشاد ہو حدیثِ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حکم میں سمجھا جائے گا۔ آخرجب یہ عالم متدین ہے اوربات میں رائے کو دخل نہیں تو لاجرم حدیث سے ثبوت ہوگی، امام علامہ قاضی عیاض نے سریج بن یونس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے نقل کیا کہ اﷲ تعالٰی کے کچھ سیاح فرشتے یہں جن کے متعلق یہی حدیث ہے کہ جس گھر میں احمد یا محمد نام کوئی شخص ہو اس گھر کی زیارت کیا کریں۔ علامہ خفاجی مصری اس کی شرح نسیم الریاض میں فرماتے ہیں :
|
فھو ظاھر وان کان لسریج فھو فی حکم المرفوع لان مثلہ لایقال بالرای [1] اھ ملخصا۔ |
یہ اگر چہ سریج کا قول ہے مگر وہ مرفوع کے حکم میں ہے اس لئے کہ ایسی بات رائے سے نہیں کہی جاتی اھ ملخصًا (ت) |
یہ سریج نہ صحابی ہیں نہ تابعی نہ تبع تابعین میں ہے، بلکہ علمائے مابعد سے ہیں، بایں ہمہ علامہ خفا جی نے ان کے قولِ مذکور کو حدیث مرفوع کے حکم میں ٹھہرایا کہ ایسی بات رائے سے نہیں کہی جاتی، اسی طرح مانحن فیہ (زیر بحث مسئلہ ۔ت) میں بھی کہہ سکتے ہیں کہ علماء کا وہ فتوٰی بھی حدیث مرفوع کے حکم میں ہونا چاہئے،
ثم اقول: وباﷲ التوفیق ( میں پھر اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ت) فقیر غفر اﷲ تعالٰی لہ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع