30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللھم صل علی روح سیدنا محمد فی الارواح تو اصل لفظ کے کہنے میں کوئی حرج نہیں، مگر جہاں عوام سے یہ سمجھتے ہوں جیسے اس نیك پاکیزہ خیال نے سمجھے تو ضرور اس کہنے سے ان کو روکا جائے یایہ وہم ان کے دلوں سے نکال دیا جائے کہ ارواح کا اطلاق اموات ہی کے حق میں ہوتا ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور تمام انبیاءِ کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام حیقیقۃ ایسے ہی زندہ ہیں جیسے رونق افروزی دنیا کے زمانہ میں تھے، ان کی موت یك آن کے لئے تصدیق وعدہ الٰہیہ
کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ؕ[1] (ہر جاندار نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔ت) کے واسطے ہوتی ہے، پھر وہ ہمیشہ ہمیشہ بحیات حقیقی جسمانی دنیاوی زندہ ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، حج کرتے ہیں، مجالس خیرمیں تشریف لے جاتے ہیں، کھانا پینا سب کچھ دنیا کی طرح بے کسی آلائش کے جاری ہیں کما نطقت بہ الاحادیث وائمۃ القدیم والحدیث (جیسا کہ اس بارے میں احادیث اورزمانہ قدیم وجدید کے ائمہ کے ارشادات موجود ہیں ۔ت) واﷲ سبحٰنہ، وتعالٰی اعلم
مسئلہ
٢٢٤: از بہیرہ ضلع شاہ پور ، ملك
پنچاب، ملتانی دوازہ، مسئولہ فضل حق صاحب چشتی ٥ رمضان ١٣٣٩ھ
بخدمت جناب سلطان العلماء، المتبحرین، برہان الفضلاء، المتصدرین، کنز الہدایہ
والیقین، شیخ الاسلام والمسلمین مولٰنا المفتی العلامۃ الشاہ محمد احمد رضا خاں
صاحب مدظلہ العالی، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس
مسئلہ میں کہ گیارھویں شریف کس چیز پر دینی افضل ہے۔ چاول یا حلوہ وغیرہ اور کن کن
لوگوں میں بانٹنی چاہئے؟ آپ بھی تبرك چکھنا چاہئے یا نہیں؟ اور کس پیر صاحب یا سید
کو اس میں سے حصہ دینا یا نہیں؟ ایك مسجد میں چند ایك اصحاب مل کر گیارھویں پکاتے
ہیں تو کیا وہ گیارھویں شریف پکی ہوئی، مسجد کے نمازیوں میں بانٹنی چاہئے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
نیاز کا ایسے کھانے پر ہونا بہتر ہے جس کا کوئی حصہ پھینکا نہ جائے، جیسے زردہ یا حلوا یاخشکہ، یا وہ پلاؤ جس میں سے ہڈیاں علیحدہ کرلی گئی ہوں، بانٹنے کا اختیار ہے، جس سنی مسلمان کو چاہے دے اگر غنی کو ہو اگر چہ سید ہو۔ اور خود بھی تبرك کھائے تو حرج نہیں۔ شاہ عبدالعزیز صاحب نے فتاوٰی میں لکھا ہے: نیاز کا کھانا تبر ك ہوجاتاہے، ہاں اگر شرعی منت مانی ہو توا س میں سے نہ خود کھا سکتا ہے نہ کسی غنی یا سید کو دے سکتاہے، وہ غیر ہاشمی فقرائے مسلمین کا حق ہے۔ اور بدمذہبوں خصوصًا وہابیوں رافضیوں کو دینا جائز نہیں، چندے والے جس نیت سے پکائیں اس میں صرف کریں، اگر خاص نمازیوں کے لئے پکائی ہے تو صرف انھیں کو دیں، اور سب کے لئے تو سب کو۔ ہاں کافر کو دینا جائز نہیں جیسے بھنگی، چمار، وہابی، رافضی، قادیانی۔ ہاں جس کی بدمذہبی حدِ کفر تك نہ پہنچے جیسے تفضیلہ، اسے دینے میں حرج نہیں، اور سنی کو دینا افضل ۔ حدیث میں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع