30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ خیال کہ جب ہو حکم حدیث ان شاء اﷲ العزیز فتنہ قبرسے مامون ہے کہ اس مسلم کی موت روز جمعہ واقع ہوئی خصوصًا وہ خودہی صالحین سے تھا تواب ایصال ثواب کی کیا حاجت، محض غلط اور بے معنی ہے۔ ایصال ثواب جس طرح منعِ عذاب عقاب میں باذن اﷲ تعالٰی کام دیتا ہے یونہی رفعِ درجات وزیادت حسنات میں اور حق سبحانہ وتعالٰی کے فضل اور اس کی زیادت وبرکت سے کوئی غنی نہیں۔
|
قال تعالٰی لِلَّذِیۡنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَ زِیَادَۃٌ ؕ[1]۔ |
اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے: نیکوکاروں کے لیے بھلائی ہے اور مزید بھی ہے ۔(ت) |
سید نا ایوب علیہ الصلٰوۃ والسلام کی مولٰی جلا وعلانے اموال عظیمہ عطافرمائے تھے، ایك روز نہارہے تھے کہ اسمان سے سونے کی ٹیریاں برسیں، ایوب علیہ الصلٰوۃ والسلام چادر میں بھرنے لگے، رب عزوجل نے ندا فرمائی: یا ایوب الم اکن اغنیك عماتری اے ایوب! جو تمھارے پیشِ نظر ہے کیا میں نے تمھیں اس سے بے پروا نہ کیا تھا؟ عرض کی: بلٰی وعزتکی ولکن لا غنی عن برکتك [2]ضرو غنی کیا تھا تیری عزت کی قسم مگر مجھے تیری برکت سے توبے نیازی نہیں رواہ البخاری واحمد والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ (اسے امام بخاری وامام احمد ونسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے ۔ت) جب حق جل وعلا کی دینوی برکت سے بندہ کوغنا نہیں تو اس کی دینی برکت سے کون بے نیاز ہوسکتا ہے۔ صلحاء تو صلحا خود امام اعاظم اولیاء بلکہ حضرات انبیاء خود حضور پر نور نبی الانبیاء علیہ الصلٰوۃ والسلام کو ایصال ثواب زمانہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے اب تك معمول ہے حالانکہ انبیاء کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام قطعًا معصوم ہیں تو موتِ جمعہ یا صلاح کیا مانع ہوسکتی ہے۔ ردالمحتار میں ہے :
|
ان ا بن عمر کان یعتمر عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عمرا بعد موتہ من غیر وصیۃ وحج ابن الموفق (رحمۃ اﷲ تعالٰی) وھوفی طبقۃ الجنید قدس سرہ) عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سبعین حجۃ وختم ابن السراج عنہ صلی اللّٰہ تعالٰی |
حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے وصا ل کے بعد بغیر کسی وصیت کے ان کی طرف سے عمرے کیا کرتے تھے، ابن موفق رحمہ اﷲ نے (جو حضرت جنید بغدادی قدس سرہ، کے طبقہ سے ہیں) حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع