30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہنچے گا آگے پیچھے نہیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فر ماتے ہیں:
صوم یوم السبت لالك ولاعلیك [1](روز شنبہ کا روزہ نہ تیرے لیے، نہ تیرے اوپر۔ ت)
میرے فتاوٰی ورسائل مجلس مبارك کے استحباب ا وران اشیاء کے جوا سے مالامال ہیں، حامیِ سنت حاجی لعل خاں نے کوئی اشتہار اس مضمون کا نہ دیا۔ وہابیہ کا کوئی افتراء آپ کی نظر پڑا ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ٢١١: از شہر بازار بانس منڈی معرفت عبدالحکیم طالب علم مدرسہ منظرالاسلام ٢٧ محرم الحرام ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص گیارھویں شریف کومنع کرے اور اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ اور گیارھویں شریف کا کرنا سنت ہے یا مستحب؟ا گر ستنت ہے تو زائد ہے یاموکد؟ا ور سنت سے کو ن سی سنت مراد ہوگا؟ آیا سنتِ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا سنتِ صحابہ رضوان علیہم اجمعین؟ اور جیسے گیارھویں شریف کو ہم لوگ گیارہ تاریخ میں ضرور سمجھتے ہیں، یہ سمجھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگرگیارہ تاریخ کے بجائے بارہ یا تیرہ کو کرے توہوگی یا نہیں؟ اور ایسے ہی تیجے کو یا چہلم کو ایك دن یا دو دن آگے پیچھے کریں تو کرسکتے ہیں یانہیں؟ اگر نہیں توجیسے ہم لوگ کرتے ہیں کہ تیسری کو تیجا اور گیارہ تاریخ کو گیارھویں اور چہلم کو چہلم کر نا ضروری ہے یا نہیں؟ اور بتاسے اور ریوڑی وغیرہ سامنے لانے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اور بجز لانے کے نیاز ہوسکتی ہے یا نہیں؟ا ور چند سورہ جو مروجہ ہیں ان کے علاوہ او رکوئی سورہ شریف پڑھ کر فاتحہ ونیازہوسکتی ہے یانہیں؟ بیّنوا بالدلیل توجروا عندالجلیل باجر جزیل۔
الجواب:
یہاں گیارھویں شریف کو منع کرنے والے نہیں مگر وہابی یا رافضی، اور دونوں کے پیچھے نماز باطل محض ہے۔ گیارھویں شریف اپنے مرتبہ فردیت میں مستحب ہے، اور مرتبہ اطلاق میں کہ ایصال ثواب سنت ہے، او رسنت سے مراد سنتِ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔ اور یہ سنت قولیہ مستحبہ ہے۔ یہ"ہم لوگ"کہنا اپنی تہ میں وہابیت کا فریب رکھتا ہے، سنیوں میں کوئی اسے خاص گیارھویں تاریخ ہونا شرعًاواجب نہیں جانتا، ور جوجانے محض غلطی پر ہے۔ ایصال ثواب ہر دن ممکن ہے او کسی خصوصیت کے سبب ایك تاریخ کا التزام جبکہ ایسے شرعًا واجب نہ جانے مضائقہ نہیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہرپیر کو نفلی روزہ رکھتے کیا اتوار یا منگل کو رکھتے تو نہ ہوتا، یا اس سے یہ سمجھا گیا کہ معاذاﷲ حضورنے پیر کا روزہ واجب سمجھا؟ یہی حال تیجے او ر چہلم کا ہے۔ روٹی کھاتے وقت روٹی کو سامنے لانے کی ضرورت نہیں، پیٹھ کے پیچھے بھی رکھ کر کھا سکتے ہیں او رسر پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع