30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شریف ذکر حمد الٰہی ہے۔اور علماء فرماتے ہیں: کُل دعا ذکر او رکل ذکر دعا، تو وہ بھی دعاہے ۔ اس نیت سے ان کے بڑھتے وقت ابتداء ہی سے ہاتھ اٹھائے توضروربجا ہے اور اکا بر کو ثواب رسانی میں بخشنے کا لفظ کہنا بیجا ہے بخشنا بڑے سے چھوٹے کے لیے ہوتا ہے اور ایصال ثواب میں نذر اﷲ نہ کہنا چاہئے، اﷲ عزوجل اس سے پاك ہے کہ ثواب اسے نذر کیا جائے، ہاں نذرِ رسول اﷲ کہناصحیح ہے۔ معظمین کی سرکار میں جو ہدیہ حاضر کیا جاتا ہے اسے عرف میں نذر کہتے ہیں، جیسے بادشاہوں کو نذر دی جاتی ہے، اولیاء کی نذر کے بہت ثبوت ہمارے فتاوٰی افریقہ میں ہیں۔ او رتازہ ثبو ت یہ ہے کہ شاہ ولی اﷲ صاحب انسان العین فی مشائخ الحرمین میں حالِ سید عبدالرحمن ادریسی قدس سرہ، میں فرماتے ہیں :
|
از اطراف دیار اسلام نذور برائے وے می آوردند [1]۔ |
مسلمان علاقوں سے ان کے لے نذریں پیش کی جاتی ہیں (ت) |
جو مالك نصاب نہ ہو شرعًا اسے محتاج کہتے ہیں، جو نذر ونیاز کو حرام بتائے اور شریعت نیاز کی نسبت وہ ناپاك ملعون لفظ وہ نہ ہوگا مگر وہابی، اور وہابیہ اصلًا مسلمان نہیں اور ان کے پیچھے نماز باطل محض ، اوراس سے مصافحہ حرام اور اسے سلام کرنا جائز وگناہ۔
(٢) تیجہ، دسواں، چہلم وغیرہ جائز ہیں جبکہ اﷲ کے لیے او رمساکین کو دیں، اپنے عزیزوں کا ارواح کو علم ہوتا ہے او رکاآنا نہ آنا کچھ ضرور نہیں، فاتحہ کا کھانا بہتر یہ ہے کہ مساکین کو دے ، اور اگر خود محتاج ہے تو آپ کھالے اپنے بی بی بچّوں کو کھلائے سب اجر ہے۔
حدیث میں ہے :
|
مااطعمت ولدك فھولك صدقۃ ومااطعمت خادمك فھولك صدقۃ وما اطعمت نفسك فھو لك صدقۃ [2]۔ |
جو کچھ تو اپنی اولاد کو کھلائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے اور جو کچھ تو اپنے خادم کو کھلائے وہ تیرے لیے صدقہ ہے او ر جو کچھ تو اپنے نفس کو کھلائے وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہے۔ (ت) |
ثواب رسانی میں کہے کہ الٰہی! جو ثواب تونے مجھ کو عطا فرمایا وہ میری طر ف سے فلاں شخص کو پہنچادے غنی ہو یا فقیر ہو، اگرصرف فاتحہ دے گا تو اسی کا ثواب پہنچے گا او رصرف کھانا دے گا تو اسی کا، اور دونوں تو دونوں کا، اور ثواب پہنچانا صرف نیت ہی سے نہ ہو بلکہ اس کی دعا بھی ہو۔ یہ سوال کہ (اگر محتاج ایسے نہ ملیں جن پر شرائط محتاجِ شریعت ثابت ہوں) خلاف واقع ہے۔ وہ کون سی جگہ ہے جہاں محتاج نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع