30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(١) عشرہ محرم الحرام میں کھانے یاشیرینی یا مالیدہ یا شربت جس قدر میسر ہو رو برو رکھ کر ہاتھ اٹھا کر الحمد شریف قل ہو اﷲ شریف ، درود شریف پڑھ کر یہ کہنا کہ نذر اﷲ رسول، میں اس کھانے اور جو کھانے اور جو کلام پڑھا ہے اس کا ثواب بروحِ پاك جناب امامین وجمیع شہدائے دشتِ کربلا پہنچانا بخشتا ہوں یہ جائزہے یا نہیں؟ا وریہ کھانا یا جو کچھ فاتحہ کا ہے یہ حق محتاجین ہے یا غنی بھی کھاسکتے ہیں؟ او رشریعت میں شرائط اور صفات محتاج کیا ہیں؟ او رجو شخص مسلمان ہو کر نذر ونیاز بزرگانِ دین کو حرام بتائے بلکہ یہ کہے کہ شربت سبیل جناب امام حسین عالی مقام کا نعوذ باﷲ مثل پیشاب ہے، ایسا کہنے والا مسلمان ہے یا نہیں؟ اور ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ او سلام یا مصافحہ ایسے شخص سے کرے یا نہیں؟
(٢) تیجہ ، دسواں، چہلم، ششماہی، برسی جائز ہے یا نہیں؟ او رروحیں ان ایما میں اتی ہے یا نہیں؟ او راپنے عزیزوں کا ان کو علم ہوتا ہے یا نہیں؟ اور کھانا ان کی فاتحہ کا کس کا حق ہے؟ اور اگر فاتحہ دلانے والا خود محتاج ہے تو فاتحہ دلا کر خود کھالے اور بچوں کو کھلائے تو جائز ہے یا نہیں؟ او رالفاظ ثواب رسانی کیا ادا کرے ؟ا ور اگر غنی فاتحہ دے او رثواب پہنچائے بروحِ اموات، تو ثوا ب کھانے او رفاتحہ کا فورًا اس میّت کو پہنچے گا یا ایك عبادت کا؟ اگر محتاجین کو کھانا فاتحہ دے تو نیت پر ثواب پہنچایا نہیں؟ اگر محتاج ایسے نہ ملیں جن پرشرائط محتاج ثابت ہوں تو پھر کھانا کسے دے اور کہاں صرف کرے؟ اور حضرت رسول خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اور حضور کے صحابہ نے فاتحہ دی یا نہیں؟ اور تیجہ صحابہ میں ہوتا رہا یا نہیں؟
(٣) قبر اہل۔ اﷲ پر شامیانہ چڑھانا یا شیرینی نزد قبر رکھ کر ایصال ثواب کرنا یا چراغ نز د قبر جلانا یا عروس کرناجائز ہے یا حرام ہے؟
الجواب:
(١) شیرینی وغیرہ پر حضرت شہدائے کرام کی نیاز دینا بیشك باعثِ اجرو برکات ہے اور عشرہ محرم شریف اس کے لیے زیادہ مناسب، اور جبکہ وہ منّت مانی ہوئی نہ تو اغنیاء کو بھی اس کا کھانا جائزہے۔ اور وقت فاتحہ کھانا سامنے رکھنے کی ممانعت نہیں مگر اسے ضروری جاننایایہ سمجھنا کہ بے اس کے فاتحہ نہیں ہوسکتی یا ثواب کم ملے گا، غلط وباطل خیال ہے ۔ فاتحہ پڑھ کر جب ایصال ثواب کاوقت جس میں دعا کی جاتی ہے کہ الٰہی! یہ ثواب فلاں کو پہنچا، س وقت ہاتھ اٹھا نا چاہئے کہ یہ دعا کی سنت ہے۔ جس وقت تك قرآن مجید کی تلاوت کررہا ہے ہاتھ اُٹھانے کی حاجت نہیں۔ ہاں سورۃ فاتحہ شریف خود دعاہے، یوں ہی درود شریف، حدیث میں فرمایا: افضل الدعاء الحمد اﷲ [1] ( سب سے افضل دعا الحمد اﷲ ہے ،ت) او ر قل ھواللہ
[1] سنن ابن ماجہ باب فضل الحامدین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٢٧٨،المستدرک علی الصحیحین کتاب الدعاء دارالفکر بیروت ١/٤٩٨
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع