30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ نیك اعمال کا مردہ کو ثواب پہنچتا ہے۔ اور یہ بھی حدیثوں میں آیا ہے کہ وہ ثواب پا کر خوش ہوتا ہے اور ثواب کا منتظر ہوتا ہے اور ثواب پہنچنے کا منتظر رہتا ہے، تو قرآن شریف وکلمہ طیبہ پڑھ کر ثواب پہنچانا اچھی بات ہے اور تیسرے دن کی خصوصیت بھی مصالح عرفیہ شرعیہ کی بنا پر ہے۔ اس میں بھی حرج نہیں، حدیث میں ہے :صوم یوم السبت لالك ولاعلیك [1]( سنیچر کے روزہ میں نہ تیرے لیے کوئی مزید فائدہ ہے نہ کوئی نقصان۔ ت)اور جو کچھ تقسیم کیا جائے محتاجوں کو دیاجائے کہ یہ بھی ثواب کی بات ہے، غنی لوگ اس میں سے نہ لیں، باقی جوبیہودہ باتیں لوگوں نے نکالی ہیں مثلًا اس میں شادی کے سے تکلفات کرنا، عمدہ عمدہ فرش بچھانہ، یہ باتیں بیجاہیں، اور اگر یہ سمجھتا ہے کہ ثواب تیسرے دن پہنچتا ہے یا اس دن زیادہ پہنچے گا اور روزکم، تو یہ عقیدہ بھی اس کا غلط ہے۔ اسی طرح چنوں کی کوئی ضرورت نہیں، نہ چنے بانٹنے کے سبب کئی برائی پیدا ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٨٦: از کرہ ڈگسائی ضلع شملہ بمعرفت کمال الدین مرچنٹ مرسلہ حبیب اﷲ ٩ شوال ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لوگ جو کہتے ہیں کہ کھانے کے اوپر کلام الٰہی یعنی الحمد اور قل ھو اﷲ پڑھنا منع ہے، ا ور پڑھنے سے طعام حرام ہوجاتا ہے، لہٰذا امیدوار ہوں کہ کلام الٰہی سے کھانا کیوں حرام ہوگیا، اور کلام الٰہی کیا ایسا خراب ہے جس کے پڑھنے سے حلال چیز حرام ہوجائے ؟
الجواب:
فاتحہ بیشك جائز ہے ۔ وہ مسلمان میّت کو نفع پہنچنا ہے، اور فرض کے بعد کوئی چیز مولٰی تعالٰی کو اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں کہ مسلمان کو نفع پہنچایا جائے۔حدیث میں ہے :
|
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ [2] ۔ |
جو اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتا ہو تو چاہئے کہ اسے نفع پہنچائے ۔ (ت) |
دوسری حدیث میں ہے :
|
احب الاعمال الی المولٰی تعالٰی بعد الفرائض |
اﷲ تعالٰی کی بارگاہ میں فرائض کے بعد سب سے زیادہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع