30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولطیف تر آنکہ شاہ صاحب موصوف عرس پیران وپدراں خودشاں باہتمام تمام بجامی آوردند وپیش ایشاں برقبور درویشاں اجتماع مردم و فاتحہ خوانی وتقسیم طعام وشرینی بتجویز وتقریر ایشاں می شد چنانکہ درعامہ اہل سجادہ جاری و ساری است۔ مفتی عبدالحکیم پنجابی بریں افعال شاہبہ بہماں شبھات واہیہ کہ حضرات منکرین بکار می برند برشاہ صاحب زبانِ مطاعن ومثالب کشود ورقم نمود"کسانیکہ اقوال اینہا مطابق افعال شان نیستندی، عرس بزرگاں خودبر خود مثل فرض دانستہ سال بسال برمقبرہ اجتماع کردہ طعام وشیرنیی درانجار تقسیم نمودہ مقابر راوثنا یعبدمی کنند [1]اھ ملخصا شاہ صاحب در رسالہ ذبیحہ مطبوعہ مجموعہ زبدۃ النصائح بپاسخ ایں طعن فرمایند قولہ"عرس بزرگان خود آہ ایں طعن مبنی ست برجہل باحوال مطعون علیہ زیراکہ غیر ازفرائض شرعیہ مقررہ راہیچکس فرض نمیداندآرے زیارت وتبرك بقبور صالحین و امدادایشاں باہدائے ثواب وتلاوت قرآن ودعائے خیر وتقسیم طعام وشیرینی امر مستحسن وخوب است باجماع علماء وتعین روز عرس برائے آن ست کہ آن روز مذکر انتقال ایشامی باشد، از
|
زیادہ پر لطف بات یہ ہے کہ شاہ صاحب موصوف اپنے پیروں اور باپ دادا کا عرس پورے اہتمام سے کرتے تھے اور ان کے سامنے ان کی اجازت سے ، اور ان کے برقرار رکھنے سے درویشوں کی قبروں پر آدمیوں کا اجتماع ، فاتحہ خوانی اور طعام وشیرینی کی تقسیم ہوتی تھی، جیسا کہ سبھی اہل سجادہ میں جاری وساری ہے۔ مفتی عبدالحکیم پنجابی نے ان ہی بے وزن شبہات کے تحت جو حضرات منکرین پیش کرتے ہیں، شاہ صاحب کے ان افعال کے باعث شاہ صاحب زبان لعن طعن دراز کی اور لکھا کہ وہ لوگ جن کے اقوال افعال کے مطابق نہیں اپنے بزرگوں کا عرس اپنے اوپر فرض کی طرح لازم جان کر سال بہ سال مقبرے پر اجتماع کرکے وہاں طعام وشیر ینی تقسیم کرکے ان مقبروں کو بُتِ معبود بناتے ہیں۔"اھ ملخصًا (ت) شاہ صاحب"رسالہ ذبیحہ"میں جو مجموعہ زبدۃ النصائح میں چھپا ہے اس طعن کے جواب میں فرماتے ہیں"قولہ عروس بزرگان خود الخ۔ یہ طعن مطعون علیہ کے حالات سے بے خبری پر مبنی ہے اس لیے شریعت میں مقررہ فرائض کے سوا کسی کا م کو کوئی فرض نہیں جانتا۔ ہاں قبور صالحین کی زیارت قرآن ، دعائے خیر اور تقسیم شرینی وطعام سے ان کی امداد باجماع علماء مستحسن اور اچھا عمل ہے ___ اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع