30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ثانی طائفہ دربارہ دست برداشتن بدعائے تعزیہ بالاشنیدی واینك اول وامام معول طائفہ دررسالہ بدعت چناں نغمہ سرا"طریق ثانی آنکہ بمطلق بالنظر الٰی ذاتہ حکمے از احکام شرعیہ متعلق گردد۔ پس مطلق بنظر ذات خود درجمیع خصوصیات ہما حکم اقتضامی نماید گودر بعض افراد بحسب عوارض خارجیہ حکم مطلق مختلف گردد (الی ان قال) درتحقیق حکم صورت خاصہ کسیکہ دعوی جریان حکم مطلق درصورت خاصہ مبحوث عنہامی نماید ہمانست متمسکت بہ اصل کہ دراثبات دعوٰی خود حاجت بدلیلے نہ وراد۔ دلیل اوہما حکم مطلق ست وبس [1] ا لخ حضرت والد قدس سرہ الماجد این اصل منیف وقاعئدہ شریعت را تحقیق بالغ وتنقیح بازغ در اصول الرشاد افادہ وارشاد فرمودہ اند آنچابا ید جست۔ من باول سخن بازگردم فاقول: باز اگر درین وقت معین مرجحے حامل براختیارش فی نفسہ موجود ست فبہا ورنہ ہنگام |
یہ سبھی تعینات (اوقات معیّنہ) اطلاق کی بناہ پر بطور بدیست وہ عمل واقع کیے جانے کے قابل تھے، مگر ان ہی میں سے کسی کو کسی مصلحت کی وجہ سے اختیار کرتے ہیں۔ بغیر اس کے کہ وقت معین کو صحت کی بنیاد یا حلت کا مدار یا ثواب دئے جانے کا مناطر جانیں، ظاہر ہے کہ اس تقیید کی وجہ سے مقید، مطلق کافر د ہونے سے خارج نہ ہوگا، اور مطلق کا جو حکم ہے وہ اس کے تمام افراد میں جاری ہوگا تب کہ کسی فرد خاص سے متعلق خاص طور پر ممانعت وارد نہ ہو ___تو ایسے مقام میں راہ یہ نہیں کہ جائز کہنے والے سے خصوصیت کا ثبوت مانگیں بلکہ راہ یہ ہوگی کہ اس فرد خاص سے متعلق ممانعت کی صراحت شریعت سے نکالیں۔اس طائفہ کے معلم ثانی کی عبارت دعائے تعزیعت میں ہاتھ اٹھانے سے متعلق اوپر گزری ،اوریہ طائفہ کے معلم اول اور امام معتمد"رسالہ بدعت"میں یوں نغمہ سرا ہيں"دوسرا طریقہ یہ کہ خود ذاتِ مطلق کی جانب نظر کرتے ہوئے اس سے کوئی حکم شرعی متعلق ہو،تو مطلق اپنی ذات کے لحاظ سے تمام خصوصیات میں اسی حکم کا مقتضی ہوگا، گو بعض افراد میں خارجی عوارض کے اعتبار سے مطلق کا حکم مختلف ہوجائے ( آگے لکھا) صورتِ خاص کے حکم کی تحقیق میں جو شخص زیر بحث خاص صورت کے اندر بھی مطلق کا حکم جاری ہونے کا دعوٰی رکھتا ہے وہی اصل سے تمسك کرنے والا ہے، جسے اپنا دعوٰی ثابت کرنے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ دلیل وہی حکم مطلق ہے اور بس"الخ حضرت والد قدس سرہ الماجد نے اس اصل اور قاعدے کی کامل اور روشن تحقیق وتنفیح اصول ارشاد میں افادہ فرمائی ہے وہاں سے اسے طلب کرنا چاہئے ۔ (ت) میں پھر پہلی گفتگو کی طرف پلٹتا ہوں۔ اقول: پھراگر اس وقت معیّن کی ذات میں خود کوئی ترجیح دینے والی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع