30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر نذر کنند کہ بشرطہ برآمدن حاجت خود گاؤ دوسالی فربہ نیاز حضرت غوث الاعظم خواہد کرد۔ پس حکم ایں مثل طعام اگر نذر بطور حسن ہے تو کوئی خلل نہیں، اور اگرقبیح طور پر ہے توا س کا فعل حرام ہے اور جانور حلال ہے ۔"یہ گیارہ اقوال ہیں حضرت غوثِ اعظم قطب اکرم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی گیارھویں کے ایام کی تعداد کے برابر ___ اور تین اقوال امام الطائفہ کے اوپر گزرے، اور دوقول شاہ عبدالعزیز صاحب کے عنقریب آرہے ہیں، اور خداہی سے توفیق اور راہ راست کی ہدایت ہے ۔ (ت)
|
سخن گفتن ماندازتعیینِ اوقات کہ درمردماں رائج ست ہمچوں سوم وچہلم وسرسال وششماہ اقول: وبحول اﷲ اصول توقیت یعنی کارے راوقت معین داشتن بردوگونہ است شرعی وعادی، شرعی آۤنکہ شرع مطہر عملے راوقتے تعیین فرمودہ است کہ درغیر او اصلاصورت نہ بند دواگر بجائے آراندآن عمل شرعی نہ کردہ باشند، چوں ایام نحرمراضحیہ رایا آنکہ تقدیم و تاخیرش ازاں وقت ناروا باشد چوں اشہر حرم مراحرام حج رایا آنکہ ثوابیکہ درغیر اونیاز بند چوں ثلث لیل مرنمازعشاراو عادی آنکہ از جانب شرع اطلاق است ہر وقتیکہ خواہند بجا آرند ۔اما حدث را از زمان ناگزیر ست ووقوع درزمان غیر معین محال عقلی کہ وجود وتعین مساوق ہم د گر است ۔ پس از تعین چارہ نیست۔این ہمہ تعینات بربناء اطلاق علٰی وجہ البدالیۃ صالح ایقاع بود ازینہا یکے را بربناء مصلحتے اختیار کنند بے آن کہ وقت معین را مبنائے صحت یا مدار حلت یا مناط اثابت دانند پیداست کہ بایں تقیید مقید از فردیت مطلق برنیاید و حکمے کہ مطلق راست درجمیع افرادش ساری باشد مالم یردمنع عن خصوص خصوصا پس ہمچوں جاسبیل نہ آنست کہ ثبوت خصوصیت از مجوز جویند بلکہ آنکہ تصریح بمنع ایں خاص ازشرع برآرند۔ عبارت معلم |
اب وقت معیّن کرنے سے متعلق گفتگو کرنی ہے جس کا لوگوں میں رواج ہے، جیسے سوم ، چہلم، ایك سال چھ ماہ، اقول: و بحول اﷲا صول ( میں کہتا ہوں اور خدا ہی کی دی ہوئی قوت سے حملہ کرتا ہوں) توقیت یعنی کسی کام کے لیے وقت مقرر کرنے کی دو صورتیں ہیں : (١) شرعی اور (٢) عادی۔ o شرعی یہ کہ شریعت مطہرہ نے کسی کام کے لیے کوئی وقت مقرر فرمایا ہے کہ (i) جواس کے علاوہ وقت میں وہ ہو ہی نہیں سکتا، او راگر کریں تو وہ عمل شرعی ادانہ ہوگا۔ جیسے قربانی کے لیے ایام نحر۔(ii) یا یہ کہ اس وقت سے اس عمل کو مقدم یا مؤخر کرنا ناجائز ہو، جیسے احرام حج کے لیے حرمت والے مہینے (شوال، ذی قعدہ، ذوالحجہ) ۔(iii )یا یہ کہ اس وقت میں جو ثواب ہو وہ دوسرے وقت میں نہ ملے ، جیسے نمازعشاء کے لیے تہائی رات، o عادی یہ کہ شریعت کی جانب سے کوئی قید نہیں جب چاہیں عمل میں لائیں__ لیکن حدث (کام ہونے) کے لیے زمانہ ضروری ہے۔ اور زمانہ غیر معین میں وقوع محال عقلی ہے، اس لیے کہ وجود اور تعین ایك دوسرے کے مُساوِق(ساتھ ساتھ) ہیں ، تو تعیّن سے چارہ نہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع