30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
گفتگو ست لیکن طعام حلال است وہمچنیں ست حکم گوشت، مثلًا اگرشخصے بگوید کہ دومن گوشت نذر سب احمد کبیر بعد بعد برآمدن حاجت خواہم خو رانید گوشت حلال است و ا گر بگو کہ گوشت گاو خوا ہم خورانید نیز درست است واگر بہمیں قصد گاؤ رانذر کند نیز رواست چراکہ مقصودش گوشت ست۔ وہمچنیں اگر گاؤ زندہ بنا م سید احمد کبیر کسے رابد ہد بطور یکہ نقدمی دہند رواست گوشت آں حلال است[1]۔"۱۰ہم درآں ست اگرہمیں طور نذر برائے اولیائے گزشتگان قدس اﷲ اسرارہم کند رواست، ایں قدرفرق ست کہ بسبب انتقال از عالم دنیابعالم برزخ منتفع بنقد وجنس و طعام نمی توانند شد بلکہ ثواب صرف آں اﷲ تعالٰی بارواح مطہرہ ایشان میر ساند پس احوال ایشاں درحالت حیات وممات برابرست [2]۔"ست بازمی گوید"۔ ۱۱اگر نذر بطریق حسن است خلل نہ واگر قبیح ست فعلش حرام است وحیوان حلال [3]۔"ایں یازدہ قول ست بعد دایام یا زدہم شریف حضرت غوث اعظم قطب اکرم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سہ از ا امام الطائفہ بالاگوشت ودواز شاہ عبدالعزیز صاحب عنقریب می آید وباﷲ التوفیق والہدایۃالٰی سواء الطریق ۔ |
کا صدقہ درمیان میں آئے تو اس کے حرام ہونے کا کیا موقع؟ ___ تقریر مذکور میں یوں لکھا ہے : (٩)"اگر کوئی شخص نذر مانے کہ اگر میری فلاں حاجت برآئے تو اس قدر حضرت سید احمد کبیر کی نیاز کروں گا اورا ن کی نیاز کا اتنا کھانا لوگوں کو کھلاؤں گا ____ اگر چہ اس نذر میں کلام ہے مگر کھانا حلال ہے __ یہی حکم گوشت کا بھی ہے __ مثلًا اگر کوئی شخص کہے کہ میں اپنی حاجت برآنے کے بعد سید احمد کبیر کی نذر کا دومن گوشت کھلاؤں گاتو گوشت حلال ہے ___ اور اگر اسی قصد سے گائے کو نذر کرے تو بھی روا ہے __ اس لیے کہ اس کا مقصود گوشت ہے __ اسی طرح اگر زندہ گائے سید احمد کبیر کے نام پر کسی کو دے دے جیسے نقد دیتے ہیں۔ توبھی جائز ہے اور اس کا گوشت حلال ہے ۔"اُسی میں ہے:"اسی طرح اگر گرشتہ اولیا اقدس اﷲ اسرارہم کے لیے نذر کرے تو جائز ہے ___ فرق اتنا ہے کہ وہ عالم دنیا سے عالم برزخ میں انتقال کر جانے کے سبب نقد وجنس اور طعام سے نفع اندوز نہیں ہوسکتے بلکہ صرف ان کا ثواب اﷲ تعالٰی ان کی ارواح پاك کو پہنچاتا ہے ___ تو ان کے احوال بحالتِ حیات اور بعد وفات برابر ہیں۔" (١١) آگے لکھا ہے :"اگر نذر کرے کہ میری حاجت برآئے تو دوسال کی فربہ گائے حضرت غوث اعظم کی نیاز کروں گا __ تواس کا حکم بھی حکم طعام کی طرح ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع