30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
و اساتذہ و مشائخ امام الطائفہ تابیباك رواں دانند کہ بے منع شرعی بتحریم فاتحہ زبان کشودن وطعام فاتحہ وشیرینی نیاز بزرگان قدست اسرارہم راحرام ومراد گفتن چہ کیفر ہاکہ نمی چشاند وکدام بد روز نمی نشاند۔ (۱)شاہ ولی اﷲ در انفاس العارفین از والد خودشاں شاہ عبدالرحیم نقل کنندہ :"می فرمودند در ایام وفات حضرت رسالت پناہ ـ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم چیزے فتوح نشد کہ نیاز آں حضرت طعام پختہ شود قدرے نخود بریاں و قندسیاں نیاز کردم [1]ا لخ در در الثمین فی مبشرات النبی الامین ہمین سخن راچناں آوردند : الحدیث الثانی العشرون اخبرنی سیدی الوالد قال کنت اصنع طعاما صلۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلم یفتح لی سنۃ من السنین شی اصنع بہ طعاما فلم اجد الاحمصا مقلیا فقسمتہ بین الناس فرایتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وبین یدیہ ھذا الحمص مبتھجا بشاشا [2]۔" ۲شاہ صاحب مذکور درانتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ نویسند :"برقدرے شیرینی فاتحہ بنام خواجگان چشت |
عمائد اور اساتذہ کے نقل کرتے ہیں تاکہ ان بے باکوں کو پتا چلے کہ شریعت سے ممانعت کے بغیر فاتحہ کو حرام بتانے پر زبان کھولنا اور فاتحہ کے کھانے ، بزرگوں کی نیاز کی شیرینی کو حرام ومردار کہنا کیسی سخت سزائیں چکھاتا ہے او رکیسے بُرے دن دکھا تا ہے۔ (١) شاہ ولی اﷲ انفاس العارفین میں اپنے والد شاہ عبدالرحیم سے نقل کرتے ہیں کہ :"وہ فرماتے ہیں حضرت رسالت پناہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ایام وفات میں کچھ میسر نہ ہوا کہ آں حضرت کی نیاز کا کھانا پکایا جائے تھوڑے سے بھُنے ہوئے چنے او ر قندسیاہ (گُڑ ) پر نیاز کیا الخ۔' الدرالثمین فی مبشرانت النبی الامین میں اسی بات کو یوں نقل کیا ہے:"بائسیویں حدیث : مجھے سیدی والد ماجد نے بتایا کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نیاز کیلئے کچھ کھانا تیار کراتا تھا ایك سال کچھ کشائش نہ ہوئی کہ کھانا پکواؤں ، صرف بُھنے ہوئے چنے میسر آئے وہی میں نے نقسیم کئے، میں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ ا ن کے سامنے یہ چنے موجود ہیں او رحضور مسرور شادماں ہیں۔"یہی شاہ صاحب انتباہ فی سلاسل الاولیاء اﷲ میں لکھتے ہیں :"تھوڑی شیرینی پرعموما خواجگان چشت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع