30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہی بحراالرائق جس میں تھا : الاصح ان الرخصۃ لھما ١[1] (اصح یہ ہے کہ رخصت مردوں عورتوں دونوں کے لیے ثابت ہے۔ت) اسی میں ہے :
|
لاینبغی للنساء ان یخرجن فی الجنازۃ لان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھا ھن عن ذلك وقال انصر فن مازورات غیر ماجورات [2]۔ |
عورتوں کو جنازے میں نہ جانا چاہیے اس لئے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کے لیے اس سے ممانعت کی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ اگر جائیں تو ثواب سے خالی گناہ سے بھاری ہوکر پلٹیں گی۔ (ت) |
اتباع جنازہ کو فرض کفایہ ہے جب اس کے لیے ان کا خروج ناجائز ہوا تو زیارت قبور کہ صرف مستحب ہے اس کے لیے کیسے جائز ہوسکتا ہے۔ پھر نفس زیارت قبر جس کے لیے عورت کا خروج نہ ہو اس کا جواز بھی عندا لتحقیق فی نفسہٖ ہے کہ جن شروط مذکورہ سے مشروط ان کا اجتماع نظر بعاوت زنانِ نادر ہے ا ورنادر پر حکم نہیں ہوتا۔ تو سبیل اسلم اس سے بھی روکنار ہے۔ ردالمحتار و منحۃ الخالق میں ہے :
|
ان کان ذلك لتجدید الحزن والبکاء والندب علی ماجرت بہ عادتھن فلا یجوز علیہ حمل حدیث لعن اﷲ زائرات القبور وان کان للاعتبار والترحم من غیر بکاء والتبرك بزیارۃ قبور الصالحین فلا بأس اذاکن عجائز ویکرہ اذاکن شواب کحضور الجماعۃ فی المسجد اھ زادفی رد المحتار وھو توفیق حسن[3] اھ وکتبت علیہ اقول: قد علم ان الفتوی علی المنع مطلقا ولو عجوز اولو لیلا فکذلك فی زیارۃ القبور بل اولی۔ |
اگر یہ زیارت غم تازہ کرنے اور رونے چلانے کے لیے ہو جیسا کہ عورتوں کی عادت ہے تو ناجائز ہے اور اسی پر یہ حدیث محمول ہے:"خدا کی لعنت ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کوجائیں"اور اگر عبرت حاصل کرنے ، روئے بغیر رحم کھانے اور قبور صالحین سے برکت لینے کے لیے ہو تو جماعت مسجد کی حاضری کی طرح بوڑھیوں کے لیے حرج نہیں اور جوانوں کے لیے مکروہ ہے اھ __ ردالمحتار میں مزید اتنا اور ہے کہ"یہ عمدہ تطبیق ہے اھ"ا س پر میں نے (امام احمدرضانے) یہ حاشیہ لکھا ہے : اقول: معلوم ہے کہ فتوٰی اس پر ہے کہ جماعتوں کی حاضری عورتوں کے لیے مطلقًا ممنوع ہے اگرچہ بوڑھی عورت ہو اور اگر چہ رات کو نکلے۔ تو یہی حکم زیارت قبور میں بھی ہوگا بلکہ یہاں بدرجہ اولٰی ہوگا۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع