30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خداہی سے ہے۔ اور اسی کی مدد سے تحقیق تك رسائی ہے۔ ت)ان تمام مباحث جلیلہ سے بحمد اﷲ تعالٰی ایك جلیل ودقیق توفیق انیق ظاہر ہوئی، عام مجوزینِ نفس زیارت قبر لکھتے ہیں کہ ا س کی اجازت عورتوں کو بھی ہوئی، زیارت قبور کے لیے خروج نساء نہیں کہتے میں عام کتب میں اسی قدر ہے اور مانعین زیارت قبر کے لیے عورتوں کے جانے کو منع فرماتے ہیں، ولہذا خروج الی المسجد کی ممانعت سے سند لاتے ہیں، اور ان کے خروج میں خوف فتنہ سے استدلال فرماتے ہیں۔تمام نصوص کہ ہم نے ذکر کیےاسی طرف جاتے ہیں، تو اگر قبر گھر میں ہو یاعورت مثلًا حج یا کسی سفرِ حائز کو گئی راہ میں کوئی قبر ملی اس کی زیارت کرلی بشرطیکہ جزع وفزع وتجدید حزن وبکار ونوحہ وافراط وتفریط ادب وغیرہا منکراتِ شرعیہ سے خالی ہو۔ کشف بزدوی میں جن روایات سے صحتِ رخصت پرا ستناد فرمایا ان کا مفاد اسی قدر ہے ۔
|
حیث قال والاصح ان الرخصۃ ثابتۃ للرجال والنساء جمیعا فقد روی ان عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کانت تزور قبر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی کل وقت وانھا لما خرجت حاجۃزارت قبرا اخیھا عبدرالرحمٰن [1]۔ |
وہ فرماتے ہیں اصح یہ ہے کہ رخصت مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ثابت ہے اس لیے کہ مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا ہر وقت قبر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت کرتی تھیں اور جب حج کو جاتیں تو راہ میں واقع اپنے بھائی عبدالرحمن کی قبرکی زیارت کرتیں۔ (ت) |
بحرالرائق وعا لمگیری وجامع الرموز ومختار الفتاوٰی وکشف الغطاء وسراجیہ ودرمختار وفتح المنان کی عبارتیں جن سے تصحیح المسائل میں استناد کیا۔ ہمارے خلاف نہیں۔ ہاں مأتہ مسائل پر رد ہیں جس میں مطلق کہاتھا :
|
زنان را زیارت قبور بقول اصح مکروہ تحریمی ست [2] ۔ |
عورتوں کے لیے زیارت قبور بقول اصح مکروہ تحریمی ہے۔ (ت) |
لاجرم وہی درمختار جس میں تھا۔ لابأس بزیارۃ القبور للنساء [3]( عورتوں کے لیے زیارت قبور میں کوئی حرج نہیں۔ ت) اسی میں ہے : ویکرہ خروجھن تحریما [4](عورتوں کا نکلنا مکروہ تحریمی ہے ۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع