30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے دونوں علتیں ارشاد فرمائیں، ارشاد ہدایہ لما فیہ من خوف الفتنہ [1](اس لیے کہ اس میں فتنے کا اندیشہ ہے ۔ت) دونوں کو شامل ہے، عورت سے خوف ہو یا عورت پر خوف ہو،اور آگے علت دوم کی تصریح فرمائی کہ:
|
لاباس للعجوز ان تخرج فی الفجر والمغرب والعشاء ھذا عند ابی حنیفۃ وقالا یخرجن فی الصلوات کلھا لانہ لافتنۃ لقلۃ الرغبۃ ولہ ان فرط الشق حاصل فتقع الفتنۃ غیر ان الفساق انتشار ھم فی الظھر والعصر والجمعۃ ٢[2]۔ |
بوڑھی عورت کے لیے فجر، مغرب اور عشاء کے لیے نکلنے میں حرج نہیں، اور صاحبین کا قول یہ ہے کہ یہ تمام نمازوں میں جائے کیونکہ اس کی جانب رغبت کم ہونے کی وجہ سے کوئی فتنہ نہیں، امام اعظم کی دلیل یہ ہے کہ فاسقوں میں شہوت کی زیادتی انھیں بوڑھی عورت پر بھی برانگیختہ کرے گی اس طرح فتنہ واقع ہوگا، مگر یہ ہے کہ فاسقون کا اِدھر اُدھرچلنا پھرنا ظہر۔ عصر اور مغرب کے وقت ہوتا ہے (اس لیے فجر، مغرب اور عشاء میں اسے جانے کی اجازت دی گئی )۔ (ت) |
محقق علی لاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا:
|
بالنظر الی التعلیل المذکور منعت غیر المزنیۃ ایضا لغلبۃ الفساق دلیلا وان کان النص یبیحہ لان الفساق فی زماننا اکثر انتشار رھم و تعرضہم باللیل و عمم المتاخرون المنع للعجائز والشواب فی الصلوات کلھا لغلبۃ الفساد فی سائر الاوقات [3] ۔ |
دلیل مذکور کے پیش نظر ایسی عورت کے لیے بھی ممانعت ہوئی جو خود بدکار نہیں، کیونکہ بدمعاشو ں کا غلبہ ہے اور رات کو بھی ممانعت ہوئی اگر چہ امام اعظم کے نص سے اس کی اباحت ثابت ہے، وجہ یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں فاسقوں کاگھومنا پھرنا اور چھیڑ چھاڑ کرنازیادہ تر رات ہی کو ہوتا ہے۔ اور متاخرین نے بوڑھی، جوان سب عورتوں کے لیے تمام نمازوں میں عام ممانعت کردی اس لیے کہ سبھی اوقات میں فساد وخرابی کا غلبہ ہے ۔(ت) |
اس مضمون کی عبارات جمع کی جائیں تو ایك کتاب ہو۔ خود اسی عمدۃ القاری جلد سوم میں اپنی عبارت منقولہ سے سوا صفحہ پہلے دیکھیے :
|
فیہ (ای فی الحدیث) انہ ینبغی (ای للزوج) |
اس حدیث میں یہ مضمون ہے کہ جس کام میں عورت کے لیے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع