30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا بقولہا لوان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم راٰی ما احدث النساء بعدہ لمنعھن کما منعت نساء بنی اسرائیل واذا قالت عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا ھذاعن نساء زمانہا فما ظنك بنساء زماننا [1] ۔ |
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے یوں اشارہ فرمایا: اگر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وہ باتیں دیکھتے جو عورتوں نے ان کے بعد پیدا کرلیں تو انھیں مسجدوں سے روك دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کوروك دیاگیا، حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما یہ جب اپنے زمانے کی عورتوں کے بارے میں فرمارہی ہیں تو ہمارے زمانے کی عورتوں کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے ؟ (ت) |
دیکھیے اسی منع مساجد سے سندلی جس کاحکم عام ہے تو لما فی خروجھن من الفساد (ان کے نکلنے میں خرابی ہے۔ ت) سے فسادِ بعض ہی مراد ، اور اسی کی منع کل مستفاد، نہ کہ صرف فساد والیوں پر قصرارشاد۔
(١٠) غنیہ نے ان دونوں عبارتوں کے بیچ آپ کی عبارت منقول کردہ متصل بحوالہ تارتارخانیہ تھا، یہ شعبی سے جو کچھ نقل فرمایا وہ بھی ملاحظہ ہو:
|
سئل القاضی عن جواز خروج النساء الی المقابر قال لایسأل عن الجواز الفساد فی مثل ھذا وانما یسأل عن مقدار مایلحقھا من اللعن فیھا واعلم انھا کلما قصدت الخروج کانت فی لعنۃ اﷲ و ملائکتہ واذا خرجت تحفھا الشیاطین من کل جانب واذا اتت القبور یلعنہا روح المیت واذا رجعت کانت فی لعنۃ اللہ[2]۔ |
یعنی امام قاضی سے استفتاء ہوا کہ عورتوں کامقابر کو جانا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا: ایسی جگہ جواز وعدمِ جواز نہیں پوچھتے، یہ پوچھو کہ اس میں عورت پر کتنی لعنت پڑتی ہے۔ جب گھر سے قبور کی طرف چلنے کا ارادہ کرتی ہے اﷲ اور فرشتوں کی لعنت میں ہوتی ہے، جب گھر سے باہر نکلتی ہے سب طرفوں سے شیطان اسے گھیر لیتے ہیں، جب قبر تك پہنچتی ہے میّت کی روح اس پر لعنت کرتی ہے، جب واپس آتی ہے اﷲ کی لعنت میں ہوتی ہے (ت) |
ملاحظہ ہو استفتاء کیا خاص فاسقات کے بارے میں تھا۔ مطلق عورتوں کے قبروں کو جانے سے سوال تھا ا س کا یہ جواب ملا اب جواب میں کہیں فاسقات کی تخصیص ہے۔ غرض یہ تمام عبارات جن سے آپ نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع