30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
منھن لما فیہ من خوف الفتنۃ [1] |
مکروہ ہے اس لیے کہ اس میں فتنے کا اندیشہ ہے ۔(ت)۔ |
ہاں جن سے وقوع ہورہاہے ، جیسے زنانِ مصر ، ان کے لیے حرام بدرجہ اولٰی بتایا ہے کہ جب خوفِ فتنہ پر ہمارے ائمہ مطلقًا حکمِ حرمت فرما چکے توجہاں فتنے پورے ہیں وہاں کا کیا ذکر ۔ عبارت عینی یہ ہے:
|
قال صاحب الہدایۃ یکرہ لھن حضور الجماعات وقالت عــــہ الشراح یعنی الشواب منھن و قولہ الجماعات یتناول الجمع والاعیاد والکسوف والاستسقاء وعن الشافعی یباح لھن الخروج قال اصحابنالان فی خروجھن خوف الفتنۃ وھو سبب للحرام ومایفضی الی الحرام فھو حرام فعلی ھذا قولھم یکرہ مرادھم یحرم لاسیما فی ھذا الزمان الشیوع الفساد فی اھلہ [2]۔ |
صاحب ہدایہ نے فرمایا: عورتوں کے لیے جماعتوں کی حاضری مکروہ ہے۔ بعض شارحین نے کہا یعنی جوان عورتوں کے لیے ___ اور"جماعتوں"کالفظ جمعہ ، عیدین، کسوف، استسقاء سبھی کو شامل ہے، او رامام شافعی سے روایت ہے کہ ان کے لیے جانے کی اجازت ہے ۔ ہمارے مشائخ نے ممانعت کی وجہ یہ بتائی ہے کہ ان کے نکلنے میں فتنے کا اندیشہ ہے ،ا ور یہ حرام کا سبب ہے، اور جو حرام تك لے جانے والاہو وہ حرام ہے__ اس کے پیش نظر لفظ"مکروہ"سے ان کی مراد"حرام"ہے ، خصوصًا اس زمانے میں اس لیے کہ اب لوگوں میں خرابی او ربرائی عام ہوگئی ہے (ت) |
پھر اسی صفحہ پر عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کاجمعہ کے دن عورتوں کو کنکریاں مار کر مسجد سے نکالنا اور امام اجل ابراہیم نخعی تابعی کا اپنے یہاں کی مستورات کو جمعہ وجماعت میں نہ جانے دینا ذکر کیا ۔ کما تقدم (جیسا کہ پہلے گزرا۔ ت) عنایہ سے گزرا کہ امیر المومنین فاروق اعظم نے عورتوں کو حضور مسجد سے منع فرمایا۔ کیا مدینہ طیبہ کی وہ بیبیاں کہ صحابیات وتابعات تھیں۔ اور ان امام اجل تابعی کی مستورات معاذاﷲ فتنہ گروہ اہل فساد تھیں، حاشا ہرگز نہیں، یا للعجب اگر صحابہ وتابعین کرام کو بھی کہا جائے کہ سب کو ایك
|
عــــہ: اقول: لابل ھو نفس نص الہدایۃ کما سمعت ۔ منہ غفرلہ (م) |
میں کہتاہوں نہیں بلکہ خود ہدایہ کی عبارت ہے جیسا کہ سن چکے۔ منہ غفرلہ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع