30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والمسلمین [1]۔ |
خلاف شیطان کو مدد دیناہے ۔(ت) |
(۶) اس تقریر سے ا س کا جواب واضح ہوگیا کہ اگرچہ ایسی عورت ہزاروں میں ایك ہو ، جیسی ہزاروں میں ہزار ہوں، جب بھی معتبر نہیں کہ حکم فقہ باعتبار غالب کے ہوتا ہے نہ کہ ہزاروں میں ایک، یہیں سے بریانیوں کا حال کھل گیا، دس ہزار بریانیاں مردار مینڈھے دنبے بکرے کی ہوں اور ان میں دس ہزار مذبوح جانوروں کی مختلط ہوں، بیس ہزار حرام ہیں یہاں تك کہ ان میں تحری کرکے جس کی طرف علت کا خیا ل جمے، اسے کھانا بھی حرام نہ کہ دس ہزار میں ایک، درمختار میں ہے :
|
تعتبر الغلبۃ فی اوان طاھرۃ ونجسۃ وذکیۃ ومیّتۃ فان الاغلب طاھر تحری و بالعکس والسواء لا [2]۔ |
پاك وناپاك برتنوں او رمردار مٓذ بوح جانوروں میں کثرت کا اعتبار ہوگا اگر اکثر پاك ہیں توتحری کرے اور جس کی پاکی پر دل جمے اسے استعمال کرے اور ا گرناپاك زیادہ ہوں یا برابر ہوں تو تحری نہ کرے کہ اب کسی کا استعمال جائز نہیں ۔ (ت) |
ہاں ایك حلال جدا ممتاز معلوم ہو توکثرت حرام سے اس پر کیا اثر۔ مگر یہاں سن چکے کہ فساد وصلاح قلب مضمر، وتمیز متعذر، نامیسر، او رمنتقٰی کی عبارت ابھی گزری پھر غلبہ فساد متیقن ، توقطعًا مطلقًا حکم ممانعت متعین، جیسے وہ بیسیوں ہزار بریانیاں سب حرام ہوئیں حالانکہ ان میں یقینا دس ہزار حلال تھیں، یہی مسلك علمائے کرام چلے۔
(٧) عینی شرح بخاری جلد سوم کی عبارت آپ نے نقل کی اس میں نہ زنانِ مصر سے حکم خاص ہے نہ مغنیہ ودلالہ کی تخصیص۔ اس میں سولہ صنف فسادِ زناں تو بیان کیں جن میں دو یہ ہیں، اور فرمایا اور اس کے سوا اور بہت سے اصناف قواعد شریعت کے خلاف ، اور بتایا کہ ُ امّ المومنین اپنے ہی زمانہ کی عورتوں کو فرماتی ہیں کہ ان میں بعض امور حادث ہوئے، کاش ان حادثات کو دیکھتیں کہ جب ان کاہزارواں حصہ نہ تھے، اپنی عبارت منقولہ سے ایك ہی ورق پہلے دیکھئے جہاں انھوں نے اپنے ائمہ حنفیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کامذہب نقل فرمایا ہے کہ حکم مطلق رکھا ہے نہ کہ زنان فتنہ گر سے خاص۔ اورا س کی علت خوف فتنہ بتاتی ہے نہ کہ خاص وقوع، یہی بعینہ نص ہدایہ ہے :
|
یکرہ لھن حضور الجماعات یعنی الشواب |
جماعتوں میں عورتوں یعنی جوان عورتوں کی حاضری |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع