30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب ان خیر کے زمانوں میں ان عظیم فیوض وبرکات کے وقتوں میں عورتیں منع کردیں گئیں ، اور کاہے سے ، حضور مساجد وشرکت جماعات سے، حالانکہ دین متین میں ان دونوں کی شدید تاکید ہے۔ تو کیا ان ازمنہ شرور میں ان قلیل یا موہوم فیوض کے حیلے سے عورتوں کواجازت دی جائے گی، وہ بھی کاہے کی، زیارت قبو ر کو جانے کی، جو شرعا موکد نہیں، اور خصوصًا ان میلوں کھیلوں میں جو خدا نا ترسوں نے مزاراتِ کرام پر نکال رکھے ہیں، یہ کس قدر شریعت مطہرہ سے منافقت ہے۔ شرع مطہرہ کا قا عدہ ہے کہ جب مصلحت پرسلب مفسدہ کو مقدم رکھتی ہے درء المفاسد اھم جلب المصالح ( خرابیوں کے اسباب دور کرنا خوبیوں کے اسباب حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ ت) جبکہ مفسدہ اس سے بہت کم تھا، اس مصلحت عظیمہ سے ائمہ دین امام اعظم وصاحبین ومن بعد ہم نے روك دیا ، اور عورتوں کی مسلیں نہ بنائیں کہ صالحات جائیں، فاسقات نہ آئیں، بلکہ ایك حکم عام دیا جسے آپ ایك پھانسی میں لٹکانا فرمارہے ہیں، کیا انھوں نے یہ آیتیں نہ سنی تھیں
|
اَفَمَنۡ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنۡ کَانَ فَاسِقًا ؕؔ[1] اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیۡنَ کَالْفُجَّارِ ﴿۲۸﴾ [2] |
کیا جو ایمان والا ہے وہ اس کی طرح ہوگا جو نا فرمان ہے؟ یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کردیں؟ (ت) |
تو اب کہ مفسدہ جب سے بہت اشد ہے ۔اس مصلحت قلیل سے روکنا کیوں لازم ہوگا، اور عورتوں کی قسمیں کیونکر چھانٹی جائیں گی۔
(۳) صلاح وفساد قلب امر مضمر ہے اوردعوے کے لیے سب کی زباں کشادہ اور محقق ومبطل نامعلوم معہذا، اصلاح سے فساد کی طرف انقلاب کچھ دشوار نہیں، خصوصًا ہو الگ کرخصوصًا عورتوں کے دل کہ قلب کیلئے بہت آمادہ۔ ولھذا رویدك انجشۃ رفقا بالقواریر ( انجشہ! آبگینوں کے ساتھ نرمی کی خاطر سواریاں آہستہ چلاؤ ۔ت) ارشاد ہوا مرد کہ اپنے نفس پر اعتماد کرے احمق ہے نہ کہ عورت، نفس تمام جہاں سے بڑھ کرجھوٹا۔ جب قسم کھائے ، حلف اٹھائے، نہ کہ جب خالی وعدوں پر امیددلائے وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۱۲۰﴾[3] ( او رشیطان انھیں فریب ہی کے وعدے دیتا ہے ۔ت)بالخصوص اب کہ قطعًا فساد غالب او ر صلاح نادر ہے۔ اس صورت میں مفتی کو تفصیل کیو نکر جائز۔ یہ تفصیل نہ ہوگی بلکہ شیطان کو ڈھیل اور اس کی رسی کو تطویل۔ امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
|
الفائز بھذا مع السلامۃ اقل قلیل |
حرم پاك میں سکونت کرکے گناہ سے سلامت رہ جانیوالے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع