30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عنہ النساء عن الخروج الی المساجد فشکون الٰی عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا فقالت لو علم البنی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماعلم عمرمااذن لکن فی الخروج [1]۔ |
مسجد جانے سے روك دیا، وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے پاس شکایت لے کر گئیں، انھوں نے فرمایا: اگر نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یہ دیکھتے جو حضرت عمر نے دیکھا تو وہ بھی مسجدجانے کی اجازت نہ دیتے ۔(ت) |
پھر فامایا:
|
فاجتمع بہ علماؤناو منعوا الشواب عن الخروج مطلقا امام العجائز فمنھن ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن الخروج فی الظھروالعصر دون الفجر والمغرب والعشاء والفتوی الیوم علٰی کراھۃ حضور ھن فی الصلوات کلھا الظھور الفساد [2]۔ |
اسی سے ہمارے علماء نے استدلال کیا، اور جوان عورتوں کو جانے سے مطلقًا منع فرمایا۔ رہ گئیں بوڑھی عورتیں، ان کے لیے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ظہر وعصر میں جانے سے ممانعت اور فجر، مغرب اور عشاء میں اجازت رکھی، اور آج فتوٰی اس پر ہے کہ تمام نمازوں میں ان کی بھی حاضری منع ہے اس لیے کہ خرابیاں پیدا ہوچکی ہیں۔(ت) |
اسی عینی جلد سوم میں آپ کی عبارت منقولہ سے ایك صفحہ پہلے ہے :
|
وقال ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ المراۃ عورۃ واقرب ماتکون الی اﷲ فی قعربیتھا فاذا خرجت استشرفہا الشیطان وکان ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما یقوم یحصب النساء یوم المجمعۃ یخرجھن من المسجد وکان ابراہیم یمنع نساءہ الجمعۃ والجماعۃ [3]۔ |
یعنی حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں عورت سراپا شرم کی چیز ہے۔ سب سے زیادہ اﷲ عزّو جل سے قریب اپنے گھر کی تہ میں ہوتی ہے اور جب باہر نکلے شیطان ا س پر نگاہ ڈالتا ہے۔ اور حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما جمعہ کے دن کھڑے ہوکر کنکریاں مارکر عورتوں کو مسجد سے نکالتے۔ اور امام ابراہیم نخعی تابعی استاذ الاستاذ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اپنی مستورات کو جمعہ وجماعات میں نہ جانے دیتے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع