30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیاامام اعظم وامام ابویوسف وامام محمد وسائرآئمہ مابعد رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو فیض حقیقت اقدس سے روکنے والا اور معاذ اﷲ معاذاﷲ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّطْفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللہِ بِاَفْوٰہِہِمْ[1] (خدا کا نور اپنے منہ سے بجھانا چاہتے ہیں ۔ت) میں داخل ماناجائے گا، حاشا یہ اطبائے قلوب ہیں، مصالح شرع جانتے ہیں۔
(٢) صحیح بخاری وصحیح مسلم وسُنن ابی داؤد میں اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کا ارشاد اپنے زمانہ میں تھا:
|
لو ادرك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علہ وسلم مااحدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء نبی اسرائیل [2]۔ |
اگرنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ملاحظہ فرماتے جو باتیں عورتوں نے اب پیدا کی ہیں تو ضرور انھیں مسجد سے منع نہ فرمادیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کردی گئیں۔ |
پھر تابعین ہی کے زمانے سے ائمہ نے ممانعت شروع فرمادی ، پہلے جو ان عورتوں کو پھر بوڑھیوں کو بھی، پہلے دن میں پھر رات کو بھی، یہاں تك کہ حکم ممانعت عام ہوگیا، کیااس زمانے کی عورتیں گربے والیوں کی طرح گانے ناچنے والیا ں یا فاحشہ دلالہ تھیں اب صالحات ہیں یا جب فاحشات زائد تھیں اب صالحات زیادہ ہیں یا جب فیوض وبرکات نہ تھے اب ہیں یا جب کم تھے اب زائد ہیں، حاشہ بلکہ قطعًا یقینا اب معاملہ بالعکس ہے۔ اب اگر ایك صالحہ ہے تو جب ہزار تھیں، جب اگر ایك فاسقہ تھی اب ہزار ہیں، اب اگر ایك حصہ فیض ہے جب ہزار حصے تھا، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
|
لا یأتی عام الاوالذی بعدہ شرمنہ [3] ۔ |
جو سال بھی آئے اس کے بعد والا اس سے بُرا ہی ہوگا۔ (ت) |
بلکہ عنایہ امام اکمل الدین بابرتی میں ہے کہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عورتوں کو مسجد سے منع فرمایا، وہ ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے پاس شکایت لے گئیں، فرمایا: اگر زمانہ اقدس میں حالت یہ ہوتی حضور عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت نہ دیتے۔
|
حیث قال ولقد نہی عمر رضی اﷲ تعالٰی |
وہ فرماتے ہیں:حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عورتوں کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع