30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باندیوں کو اﷲ کی مسجد وں سے نہ روکو۔ مسند احمد وصحیح مسلم شریف میں ہے حضرت عبداﷲ عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
|
لاتمنعوا اماء اﷲ مساجد اﷲ [1]۔ |
اﷲ کی باندیوں کوا ﷲکی مسجدوں سے نہ روکو۔ (ت) |
یہ عــــہ حدیث صحیح بخاری کتاب الجمعہ میں بھی ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا امر وجوب کے لیے ہے اور نہی تحریم کے لیے، اور فیض وبرکت لینے کا فائدہ خود حدیث میں ارشاد ہوا۔ باینہمہ آپ ہی لکھتے ہیں کہ مسجد میں عورتوں کی نماز بند ہوئی ا س کو بندہ مانتا ہے ۔درمختار کی عبارت آپ کے سے مخفی نہ ہوگی کہ:
|
یکرہ حضور ھن الجماعۃ والجمعۃ وعید ووعظ مطقا ولوعجوز ا لیلا علی المذھب المفتی بہ لفساد الزمان [2]۔ |
جماعت میں عورتوں کی حاضری___ اگر چہ جمعہ ، عید اور وعظ کے لیے ہو___ مطلقًا مکروہ ہے اگر چہ بوڑھی عورت رات کو جائے، یہی وہ مذہب ہے جس پر فسادِ زمانہ کے باعث فتوٰی ہے ۔(ت) |
اسی طرح اور کتب معتمدہ میں ہے۔ ائمہ دین نے جماعت وجمعہ وعیدین درکنار وعظ کی حاضری سے بھی مطلقًا منع فرمادیا اگر چہ بڑھیا ہو، اگر چہ رات ہو۔ وعظ سے مقصود تو صرف اخذِ فیض وسماع امر بالمعروف ونہی عن المنکر وتصحیح عقائد واعمال ہے کہ توجہ مشیخت سے ہزار درجہ اعظم اور اس کی اصل مقدم ہے۔ اس کا فیض بے توجہ مشیخت بھی عظیم مفید ودافع ہر ضرر وشدید ہے۔ اور یہ نہ ہو تو جھ مشیخت کچھ مفید نہیں بلکہ ضرر سے قریب نفع سے بعید ہے۔
|
عــــہ: غیرانہ لم یصرح فیہ باسم الصحابی فقیل عن عمر کما عند عبدالرزاق واحمد قیل عن ابن عمر کما عند مسلم واحمد واﷲ تعالٰی اعلم ١٢ منہ غفرلہ (م) |
مگر اس میں صحابی کے نام کی صراحت نہیں، کہاگیا کہ یہ روایت حضرت عمر سے ہے جیساکہ مصنف عبدالرزاق اور مسند امام احمد میں ہے۔ ا ورکہا گیا کہ حضرت ابن عمر سے ہے رضی اﷲ تعالٰی عنہما ، جیسا کہ صحیح مسلم اور مسند امام احمد میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم ١٢ منہ غفرلہ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع