30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو جانے والی عورتوں پراﷲ کی لعنت ہے ۔ت)اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
|
کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور الافزوروھا [1]۔ |
میں نے قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، سن لو اب ان کی زیارت کرو۔ (ت) |
علماء کو اختلاف ہو اکہ آیا اس اجازت بعد الہٰی میں عورات بھی داخل ہوئیں یا نہیں، اصح یہ ہے کہ داخل ہیں کما فی البحر الرائق ( جیساکہ بحرالرائق میں ہے ۔ت) مگر جو انیں ممنوع ہیں جیسے مساجد سے اور اگرتجدید حُزن مقصود ہو تو مطلقا حرام۔
اقول: قبور اقرباء پر خصوصًا بحال قُرب عہد ممات تجدید حزن لازم نساء ہے او رمزارات اولیاء پر حاضری میں احدی الشناعتین کا اندیشہ یا ترك ادب یا ادب میں افراط ناجائز تو سبیل اطلاق منع ہے ولہذا غنیہ میں کراہت پر جزم فرمایا البتہ حاضری وخاکبوسی آستان عرش نشان سرکار اعظم صلی اﷲ علیہ وسلم اعظم المندوبات بلکہ قریب واجبات ہے۔ اس سے نہ روکیں گے اورتعدیل ادب سکھائیں گے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۸۰: ازترپول سولول ڈاکخانہ ہرول ضلع دربھنگہ بلگرام چرسہ مرسلہ عبدالحکیم صاحب ۸ جمادی الآخر ۱۳۳۶ھ
کوئی آدمی کسی قبرستان میں ایك مسلمان قبر پر بزرگ سمجھ کر اس کی قبر پر درگاہ بناکر کوئی تاریخ مقرر کرکے ہر سال میلہ لگاتاہے۔ ہر پیر وجوان عورت واسطے عرض اپنے وہاں جمع ہوتی ہیں، بلکہ عورت مرد کا مجمع کثیر ہوتا ہے اور بڑے بڑے عہدہ دار یا ہندو کودعوت دے کر بلاتے ہیں جس میں ڈھول باجے اور فونو گرام وغیرہ بھی بجتا ہے او رعورت لوگ اس بزرگ کی قبر پر پھول، خصی مرغے، سرنی وغیرہ چڑھاتے ہیں، او راس قبرستان پر پیشاب پاخانہ کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا ہے اس درگاہ کی شرکت کرنے والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نا جائز، او شرکت کرنے والے کو برا سمجھیں یا اچھا، اور اس درگاہ کا متولی چھوٹی قوم ہے مونچھ داڑھی سے زیادہ رکھتاہے او رہاتھ میں لوہے کا مالا پہنتاہے او رہاتھ میں لوہے کا چھرا رکھتا ہے او رلوگوں کو گالی فحش دیتا ہے اورلوگ جو شرکت کرتے ہیں اسے بزرگ اور پیر سمجھتے ہیں، ایسے لوگ کی نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز، اس لیے دور رہنا چاہئے یانہیں؟
الجواب:
اولیاء کرام کے مزارات پر ہر سال مسلمانوں کا مجمع ہو کر قرآن مجید کی تلاوت یااور مجالس کرنااور اس کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع