30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگر قبر سے جدا ہوں۔
(۶) کسی قبر پر کوئی پایہ چُننا جائز نہیں۔
(۷) بکثرت ہیں کہ امام جلال الدین (سیو طی) کی شرح الصدور وغیرہ میں مذکور ۔
(۸) جائز ہے اور قبول ہو ا تو ثواب ملے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۷۷:ا ز گوالیار مرسلہ مولوی محمود الحسن صاحب ۱۳ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورتوں کوقبروں پر فاتحہ کو جانادرست ہے یا نا درست؟
الجواب:
اصح یہ ہے کہ عورتوں کو قبروں پر جانے کی اجازت نہیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۷۸: از نصیر آباد تعلقہ جل گاؤں ضلع خانداس مرسلہ بسم اﷲ منشی ۲ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیارت قبور میں عورتوں کے واسطے کیا حکم ہے؟ دیگر کسی کے بزرگوں کے پاس سے پشت درپشت کسی اولیاء اﷲ کی مجاوری او رخدمت گزاری ملی ہے تو فاتحہ دینا اس قبر پر صندل چڑھانا، غلاف چڑھانا، مجاور مرد لوگ موجود ہوکر عورت کو جائز ہے، اس مزارپرہمیشہ مرد مجاور رہا کرتے ہیں، وہ عورت مجاور کے خاندان سے ہے مگر نہایت بدچلن ہے۔ اس عورت کو کیا اختیار ہے؟
الجواب:
عورتوں کو زیارت قبور منع ہے۔ حدیث میں ہے: لعن اﷲ زائرات القبور [1]اﷲ کی لعنت ان عورتوں پرجو قبروں کی زیارت کوجائیں، مجاور مردوں کو ہونا چاہئے، عورت مجاور بن کر بیٹھے اور آنے جانے والوں سے اختلاط کرے یہ سخت بد ہے، عورت کو گوشہ نشینی کا حکم ہے، نہ یوں مردوں کے ساتھ اختلاط کا ، جس میں بعض اوقات مردوں کے ساتھ اسے تنہائی بھی ہوگی، اوریہ حرام ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۷۹: از پٹنہ مرسلہ ابوالمساکین مولوی ضیاء الدین ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورتوں کے واسطے زیارت قبور درست ہے یا نہیں؟
الجواب:
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لعن اﷲ زوارت القبور [2](قبروں کی زیارت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع