30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۶۸: از کلکتہ زکریا اسٹیٹ۲۲ مسئولہ مولوی عبدالحق صاحب ومولوی مبارك کریم صاحب بمعرفت حاجی لعل خاں صاحب ۲۶ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ نے مرید کو وصیت کی تھی کہ میری قبرکا کل سامان روشنی و قرآن خوانی ولنگر خان عرس وغیرہ کا تم انتظام کرنا۔ چنانچہ مرید نے بموجب وصیت تمام سامان کیا، کل اخراجات کا متکفل ہوا۔ اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ چادر وشیرینی ونقد جنس مزار پر چڑھاتے ہیں وہ کس کاحق ہے؟ اس مرید کا جس نے یہ سامان اور اخراجات کئے اور جو خادم ہے یا وہ فرزندِ شیخ کا؟
الجواب:
چادر جو مزار پر ڈالی جائے وہ کسی کا حق نہیں، نہ اس مرید خادمِ مزار کا، نہ فرزند صاحب مزار کا، نہ وہ وقف ہو، بلکہ وہ ڈالنے والے کی ملك پر رہتی ہے ، جیسے کفن کہ تبرعًا کسی نے میّت کو دیا۔ درمختارمیں ہے :
|
لایخرج الکفن عن ملك المتبرع [1] ۔ |
کفن تبرع کرنے والے (بطور احسان دینے والے ) کی ملك سے نہیں نکلتا ۔ (ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
لوافترس المیّت سبع کان للمتبرع لاللورثۃ نھر [2]۔ |
اگر میّت کو کسی درندے نے کھا لیا تو کفن جو رہ گیا وہ تبرع کرنے والے کا ہوگا ورثہ کا نہیں۔ نہر۔ (ت) |
باقی اور چڑھاوے ا گر چہ وہ چادریں ہو ں جو مزار پرنہ ڈالیں نہ اس پر ڈالنے کو دیں۔ بلکہ دیگر نذور کی طرح سمجھیں، ان میں عرف عام یہ ہے کہ خادم مزار ہی ان کا مالك سمجھا جاتا ہے۔ اسی قصد سے لوگ لاتے اور اس کا انتفاع وتصرف دیکھتے ،جانتے ، روا رکھتے ہیں والمعروف کا لمشروط( معروف ، مشروط کی طرح ہے۔ت)تو وہ خدمت والا ہی ان کا مالك ہے ترکہ نہیں کہ فرزند کو جائے ۔ اور اس قسم کے چڑھاوے شرع میں کہیں مطقًا منع نہیں، نہ یہ نذورِ شرعی ، بلکہ عرف ہے کہ اکابر کے حضور جوکچھ لے جاتے اسے نذرکہتے ہیں ، جیسے بادشاہ کی نذریں گزریں۔ بعض متاخرین نے منع کیا میّت کے لیے منت ماننے کو منع کیا ہے، وہ صورت یہاں عام مواقع میں نہیں، اکثر چڑھاوے منت ہی نہیں ہوتے،نہ یہ نذر شرعی نذر۔ اوریہاں مباحث نفسیہ ہیں کہ ہم نے تعلیقاتِ ردالمحتار میں ذکر کیں، معہذا امام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی سیدی اسمٰعیل بن عبدالغنی قدس سرہ القدسی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع