30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:
|
المسئلۃ متی امکن تخریجھا علی قول من الاقوال فی مذھبنا او مذھب غیرنا ، فلیست بمنکر یجب انکارہ والنھی عنہ وانما المنکر ماوقع الاجماع علٰی حرمتہ والنھی عنہ [1] ۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
جب کسی مسئلہ کا ہمارے مذہب یا دیگر ائمہ کے مذہب پر جواز نکل سکتا ہو تو وہ ایسا گناہ نہیں کہ اس پرانکار اور اس سے منع کرنا واجب ہو۔ ہاں گناہ وہ ہے کہ وہ اس کے حرام ہونے اور اس کے منع ہونے پر اجماع ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت) |
مسئلہ ۱۶۴: ۴ جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قبروں کوبوسہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ زیارت قبور کی نشست و برخاست کا طریقہ کیا ہے؟
الجواب:
قبروں کا بوسہ لینا نہ چاہے ۔ زیارت قبر میّت کے مواجہ میں کھڑے ہوکر ہو۔ او راس کی طرف سے جائے کہ اس کی نگاہ کے سامنے ہو، سرہانے سے نہ آئے کہ اسے سر اُٹھا کر دیکھنا پڑے۔ سلام وایصال ثواب کے لیے اگر دیر کرنا چاہتاہے رُو بقبر بیٹھ جائے اور پڑھتا رہے، یا ولی کا مزارہے تو اس سے فیض لے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۵ تا ۱۶۶:
(۱) قبور شہداء یا اولیاء اﷲ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم پر جاکر اور قبرشریف ہی پر مالیدہ یا شرینی مع پھول وغیرہ نیاز کرنا کیسا ہے، چاہئے یانہیں؟(۲) جس شہید یا اولیاء اﷲ کے مزار کا حال ہم کو معلوم نہیں ہے کہ آیا کسی کی مزار ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو کس کی ہے؟ مرد اہل اسلام ، یہودی یا نصارٰی یا عورت یہود، یا نصارٰی یا مسلمان کی، تو اس مزار پر فاتحہ پڑھنا یا بطریق مذکور نیاز وغیرہ کرنا کیسا ہے، چاہئے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
(۱) قبور مسلمین کی زیارت سنّت او رمزارات اولیاء کرام و شہداء رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کی حاضری سعادت برسعادت اور انھیں ایصال ثواب مندوب وثواب۔ اور مالیدہ وشیرینی خصوصیاتِ عرفیہ میں اگر وجوب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع