30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علامہ شیخ عبدالقادر فاکہی مکی رحمۃ اﷲ تعالٰی کتاب مستطاب حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل میں فرماتے ہیں:
|
تمریغ الوجہ والخد واللحیۃ بتراب الحفرۃ الشریفۃ واعتابھا فی زمن الخلوۃٰ المامون فیھا توھم عامی محذور اشرعیا بسببہ، امر محبوب، حسن لطلابھا، وامرہ لاباس بہ فیھا یظھر لکن لمن کان لہ فی ذلك قصد صالح وحملہ علیہ فرط الشوق والحب الطافح [1]۔ |
یعنی خلوت میں جہاں اس کا اندیشہ نہ ہو کہ کسی جاہل کا وہم اس کے سبب کسی ناجائز شرعی کی طرف جائے گا، ایسے وقت بارگاہ اقدس کی مٹی او رآستانہ پراپنا منہ اور رخسارہ اور داڑھی رگڑنا مستحب او رمستحسن ہے جس میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا، مگر اس کے لیے جس کی نیت اچھی ہو او رافراط شوق او رغلبہ محبت اسے اس پر باعث ہو۔ |
پھر فرماتے ہیں :
|
علا انی اتحفك بامریلوح لك منہ المعنی بان الشیخ الامام السبکی وضع حروجہ علی بساط دارالحدیث التی مسھا قدم النووی لینا ل برکۃ قدمہ وینوہ بمزید عظمتہ کما اشار الٰی ذلك بقول وفی دارالحدیث لطیف معنی الی بسط لہ اصبو واوی لعلی ان قال بحروجھی مکانا مسہ قدم النووی وبان شیخنا تاج العارفین امام السنۃ خاتمۃ المجتہدین کان یمرغ وجہہ ولحیتہ علی عتبۃ البیت الحرام بحجر اسمٰعیل [2]۔ |
یعنی علاوہ بریں میں تجھے یہاں ایك ایسا تحفہ دیتاہوں جس سے معنی تجھ پر ظاہر ہوجائیں وہ یہ کہ امام اجل تقی الملّۃ و الدین سبکی دارالحدیث کے اس بچھونے پرجس پر امام نووی قدس اﷲ سرہ العزیز قدم مبارك رکھتے تھے ان کے قدم کی برکت لیتے اور ان کی زیارت تعظیم کے شہرہ دینے کو اپنا چہرہ اس پر ملا کرتے تھے جیساکہ خو د فرماتے ہیں کہ دارالحدیث میں ایك لطیف معنی ہیں جن کے ظاہر کرنے کا مجھے عشق ہے کہ شاید میرا چہرہ پہنچ جائے اس جگہ پر جس کوقدم نووی نے چھوا تھا۔ اور ہمارے شیخ تاج العارفین امام سنت خاتمہ المجتہدین آستانہ بیت الحرام حطیم شریف پر جہاں سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کا مزار کریم ہے اپنا چہرہ اور داڑھی ملاکر تے تھے۔ |
بالجملہ یہ کوئی امر ایسا نہیں جس پر انکار واجب کہ اکابر صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم او راجملہ ائمہ رحمہم اﷲ تعالٰی سے ثابت ہے تو اس پر شورش کی کوئی وجہ نہیں، اگر چہ ہمارے نزدیك عوام کو اس سے بچنے ہی میں احتیاط ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع