30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علیہ علٰی الہٖ وسلم تبرك بمسہ وتقبیلہ ویفعل بالقبر مثل ذٰلك جاء ثواب اﷲ تعالٰی فقال لاباس بہ [1]۔ |
او ربوسہ دے۔ اور ثواب الہٰی کی امید پر ایساہی قبر شریف کے ساتھ کرے، فرمایا، اس میں کچھ حرج نہیں۔(ت) |
امام اجل تقی الملّۃ والدین علی بن عبد الکافی سبکی قدس سرہ الملکی شفاءُ السقام ، پھر سیدنورالدین خلاصۃ الوفاء میں بروایۃ یحٰیی بن الحسن عن عمر بن خالد عن ابی بناتۃ عن کثیر بن یزید عن المطلب بن عبداﷲ بن حنطب ذکر فرماتے ہیں کہ مروان نے ایك صاحب کو دیکھا کہ مزار اعطر سید اطہر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے لپٹے ہوئے ہیں اور قبر شریف پر اپنا مُنہ رکھے ہیں، مروان نے ان کی گردن پکڑ کرکہا جانتے ہو یہ تم کیا کررہے ہو، انھوں نے ا س کی طرف منہ کیا اور فرمایا:
|
نَعم اِنِّی لَمْ اٰتِ الْحَجَرَ انما جَئْتُ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سَمِعْتُ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول لاَتَبْکُوْا عَلَی الدِّیْنِ اِذِا وَلِیَہۤ اَھْلُہ وَلٰکِنْ اَبْکُوْا عَلَی الدِّیْنِ اِذَا وَلِیْہ غَیْرُ اَھْلَہٖ [2]۔ |
ہاں میں کسی پتھرکے پاس نہ آیا میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حضور حاضر ہواہوں ، میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا، دین پر نہ رو جب اس کا والی اس کااہل ہو، ہاں دین پر رو جب نا اہل اس کا والی ہو۔ |
سید قدس سرہ فرماتے ہیں : رواہ احمد بسند حسن [3]امام احمد نے یہ حدیث بسند حسن روایت فرمائی۔ نیز فرماتے ہیں:
|
روی ابن عساکر جید عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان بلا لارای النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھو یقول لہ ماھذہ الجفوۃ یابلال اما اٰن لك ان تزورنی فانتبہ حزینا خائفا فرکب راحلتہ وقصد المدینۃ فاتی قبر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فجعل یبکی |
یعنی ابن عساکر نے بسند صحیح ابود رداء ضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ حضرت بلال رضی اﷲ تعالٰی عنہ شام کو چلے گئے تھے ایك رات خواب دیکھا کہ حضورا قدس صلی اﷲ علیہ وسلم ان سے فرماتے ہیں: اے بلال !یہ کیا جفا ہے کیا وہ وقت نہ آیا کہ ہماری زیارت کو حاضر ہو؟ بلال رضی اﷲ تعالٰی عنہ غمگین اور ڈرتے ہوئے جاگے اور بقصد زیارت اقدس سوار ہوئے، مزارِ پر انوار پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع