30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱) زید قبرستان میں جاکر اس طرح پر فاتحہ پڑھتا ہے کہ اول قبرستان کے دروازے پر کھڑے ہو کر تمام اہل قبور کی ارواح کو ثواب بخشتا ہے پھر اپنے کسی عزیز خاص یا کسی اہل اﷲ کی قبر پر کھڑے ہوکر فاتحہ پڑھ کر ایك ایك کو جُدا جُدا ثواب بخشتاہے تو کیا جدا جدا قبر پر کھڑے ہوکر پڑھنے سے اس کے عزیز جیسے والدین وبھائی بہن وغیرہ کو کچھ ثواب یا فرحت بہ نسبت دیگر اہل قبور کے زیادہ ہوگا یا نہیں؟ اورا س جدا جدا قبر پر جانے سے والدین کا حق اور ولی کا مرتبہ ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟
(۲) دوسرے یہ کہ قرآن مجید پڑھ کر بخشنے والے کو بھی کچھ ثواب ملے گا یا نہیں؟ کیونکہ زید کہتا ہے کہ جب پڑھ کر بخش چکے تو پھر ہمارے پاس کیا رہ گیا۔ آیا یہ صحیح ہے یا نہیں؟ اور اﷲ تعالٰی فرماتا ہے : ہَلْ جَزَآءُ الْاِحْسٰنِ اِلَّا الْاِحْسٰنُ ﴿ۚ۶۰﴾[1] تو کیا احسان کا بدلہ احسان بھی جاتا رہا۔ توجروا۔
الجواب:
(۱) بلاشبہہ اس صور ت میں جس جس کے لیے جدا فاتحہ پڑھے گا اسے ثواب زائد پہنچے گا اور فرحت زیادہ ہوگی، اور والدین واعزّہ کی قبر پر جدا جدا جانے سے انس حاصل ہوگا جیسے حیات میں ۔ اور ولی کے مزار پرجدا حاضر ہونے میں اس کی خاص تعطیم ہے جو ایك عام بات میں شامل کرنے سے نہیں ہوسکتی، زید کا یہ فعل بہت حسن ہے، مگر اس کا لحاظ لازم ہے کہ جس قبر کے پاس بالخصوص جاناچاہتا ہے اس تك قدیم راستہ ہو ،ا گر قبروں پر سے ہو کر جانا پڑے تو اجازت نہیں، سرراہ دور کھڑے ہوکر ایك قبر کی طرف متوجہ ہو کر ایصال ثواب کردے ۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۲) زید غلط کہتا ہے وہ دنیا کی حالت پر قیاس کرتا ہے کہ ایك چیزدوسرے کو دے دیں تو اپنے پاس ہی نہ رہے۔ وہاں کی باتیں یہاں کے قیاس پر نہیں۔ صحیح حدیث میں فر مایا کہ جو اپنے ماں باپ کی طرف سے حج کرے ان کی روحیں شادہوں، او ریہ ان کے ساتھ نیکوکار لکھا جائے او ردونوں کو پورے حج کا ثواب ملے اور ا س کے ثواب سے کچھ کم نہ ہو، ا سکی نظیر دنیا میں علم ہے کہ جتنا تقسیم کیجئے اوروں کو ملتا ہے اور اپنے پا س سے کچھ نہیں گھٹتا بلکہ بڑھ جاتا ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۵۶ و ۱۵۷: از منجان مرسلہ علی محمد عیسٰی برادرز ۸ رمضان المبارك ۱۳۳۶ھ
(۱) قبرستان میں کلام شریف یا پنج سورہ قبر کے نزدیك بیٹھ کر تلاوت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
(۲) قبر پر سبزی یا پھول یا اگر بتی رکھنا، جلانا جائز ہے یا نہیں؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع