30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
افلا شققت عن قلبہ [1]۔ وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایّاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث [2] ۔ |
تو تونے ا س کا دل کیوں نہ چاك کیا ؟ (ت) اور سرکار دوعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: گمان سے بچوکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے (ت) |
اور تعظیم رُوح اور تعظیم قبر میں فرق نہ کرنا سخت جہالت ہے، عارف نابلسی کاا رشاد گزرا، اور امام سمہودی فرماتے ہیں:
|
لیس القصد تعظیم بقعۃ القبر بعینھا بل من حل فیھا [3]۔ |
خاص زمین قبرکی تعظیم مقصود نہیں بلکہ اس کی تعظیم مقصود ہے جو اس میں فروکش ہے ۔(ت) |
بلکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اﷲ علیہ مسند شریف میں بسند حسن روایت فرماتے ہیں:
|
اقبل مروان یوما فوجد رجلا واضعا وجہہ علی القبر فاخذ مروان برقبتہ ثم قال ھل تدری ماتصنع فاقبل علیہ فقال نعم انی لم اٰت الحجر انما جئت رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولم اٰت الحجر سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یَقُولُ لاَتَبْکُوْا عَلَی الدِّیْنِ اِذَا وَلِیَہ اَھْلُہ وَلٰکِنْ اِبْکُوْا عَلَی الدِّیْنِ اِذَا وَلِیَہ غَیْرُ اَھْلِہٖ۔ [4] |
یعنی مروان نے اپنے زمانہ تسلط میں ایك صاحب کو دیکھا کہ قبر اکرم سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر اپنا منہ رکھے ہوئے ہیں مروان نے ان کی گرد ن مبارك پکڑ کر کہا: جانتے ہو کیا کررہے ہو؟ اس پر ان صاحب نے اس کی طر ف متوجہ ہوکر فرمایا: ہاں میں سنگ وگِل کے پاس نہیں آیا ہوں میں تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حضور حاضر ہو ا ہوں ، میں اینٹ پتھر کے پاس نہ آیا، میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا دین پر نہ رؤو جب اس کا اہل ا س پر والی ہو ، ہاں اس وقت دین پر رؤو جبکہ نااہل والی ہو۔ |
یہ صحابی سیدنا ابو ایّوب انصاری تھے رضی اﷲ تعالٰی عنہ__ تو تعظیم قبر وروح مطہر میں فرق نہ کرنا مروان کی جہالت اور اسی کے ترکہ سے وہابیہ کو پہنچی ، اور تعظیم قبر سے جدا ہو کر تعظیم روح کریم کی برکت لینا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع