30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فاطفئہ فدخل الرجل فلم یقدر علی اطفاء واحد منھا فانقطع [1]۔ |
اما م عارف باﷲ استاذ ابوالقاسم قشیری قدس سرہ نے رسالہ مبارك میں ان کی نسبت فرمایا اظرف المشائخ واعلمھم بالطریقۃ (مشائخ میں سب سے زیادہ عقلمند اور طریقت کے سب سے بڑے عالم ۔ت) |
حکایت فرماتے ہیں کہ ایك بندہ صالح نے احباب کی دعوت کی اس میں ہزار ہا چراغ روشن کیے، کسی نے کہا آپ نے اسراف کیا ، صاحب خانہ نے فرمایا: اندر آئیے جو چراغ میں نے غیر خدا کے لیے روشن کیا وہ گُل کردیجئے، معترض اندر گئے، ہر چند کوشش کی ایك چراغ بھی نہ بجھا سکے، آخر قائل ہوگئے وﷲ الحمد۔
بالجملہ حاصل حکم یہ ہے کہ قبور عامہ ناس پر روشنی جب خارج سے کوئی مصلحت مصالح مذکورہ کے امثال سے نہ ہو ضرور اسراف ہے اور اسراف بیشك ممنوع ، فقہاء اسی کو منع فرماتے ہیں، کہ یہی علت منع بتاتے ہیں، اور اگر زینت قبر مطلوب ہو تو قبر محل زینت نہیں، اب بھی اسرا ف ہوا، بلکہ کچھ زائد، یوں ہی اگر تعظیم قبر مقصود ہو کہ یہاں تعظیم نسبت نہیں رہے مزارات محبوبان الٰہ، ان میں اگر زینت قبر یا تعظیم نفس قبر کی نیت ہو یہاں بھی وہی ممانعت رہے گی کہ یہ نیتیں شرعًا محمود نہیں، او ر اگر ان کی روح کریم کی تعظیم وتکریم مقصود ہو، اب نہ اسراف ہے کہ نیت صالحیہ موجود ہے، نہ تعظیم قبر ،بلکہ تعظیم روح محبوب، اور وہ شرعًا بلاشبہہ مطلوب، امام اجل تقی الدین سبکی وامام نورالدین سمہودی وامام عبدالغنی نابلسی رحمہم اﷲ تعالٰی اسی کو جائزبتاتے ہیں او رکسی کے قلب پر حکم لگا نا کہ اسے تعظیم قبر ہی مقصود ہے نہ کہ تعظیم روحِ ولی محض خراف وبدگمانی وحرام بنص قرآنی ہے۔ قال اﷲ تبارك وتعالٰی :
|
وَ لَا تَقْفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَالْفُؤَادَکُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُلًا ﴿۳۶﴾[2] |
اور اس کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں۔ بیشك کا ن، آنکھ ہر ایك سے باز پرس ہوگی ۔(ت) |
وقال اﷲ تبارك وتعالٰی :
|
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ۫ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ[3]۔ وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم |
اے ایمان والو! زیادہ گمان سے بچو، بلاشبہہ بعض گمان گناہ ہیں (ت) او ر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع