30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسلم نہیں ، ردالمحتار میں ہے :
|
یسوی اللبن علیہ والقصب لاالاجر المطبوخ والخشب لو حولہ اما فوقہ فلایکرہ ۔ [1] |
اس پر کچّی اینٹ ا ور بانس چُن دیں، پکی اینٹ اور لکڑی اس کے گرد نہ رکھیں، ہاں اوپر ہو تو حرج نہیں۔ (ت) |
ابن ملك بدائع میں ہے :
|
لانہ مما مستہ النار فیکرہ ان یجعل علی المیّت تفاولا [2]۔ |
اس لیے کہ اس پر آگ کا اثر پہنچا ہو اہے تو تفاول کے سبب میّت پر چننا مکروہ ہے ۔(ت) |
حلیہ میں ہے:
|
قال الامام التمرتاشی ھذا اذاکان حول المیّت فلوفوقہ لایکرہ [3]۔ |
امام تمرتاشی نے فرمایا: یہ اس وقت ہے جب خاص میّت کے گرد ہو ، اوپر ہو تو مکروہ نہیں ۔(ت) |
(۳۹)کس نادانی کا اعتراض ہے کہ علی معنی حقیقی پر لیں تو کوئی شخص قبر کے نیچے یا قبر کے بیچ میں چراغ جلائے تو وہ جائز ہوجائے۔ دربارہ مسجد تو آپ کو بھی مسلّم کہ علٰی معنی حقیقی پر ہے تو کوئی شخص قبرکے نیچے یاقبر کے بیچ میں مسجد بنائے یا نماز پڑھے تو وہ جائز ہوجائے، کیونکہ حدیث میں قبر پر کی ممانعت ہے۔ اب بھی کہیے کہ استغفراﷲ ۔ یہ حدیث کے ساتھ مضحکہ کرناہے۔
(۴۰) کثرتِ چراغاں کا ذکر روشنی روضہ انور میں گزرا او راس کے متعلق احیاء العلوم شریف کی ایك عبارت اور لکھیں کہ موافقین کے دل روشن ہوں اورمخالفین کی آنکھیں چکاچوند سے جلیں، امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی قبیل کتاب آداب النکاح میں فرماتے ہیں:
|
حکی ابوعلی الرودباری رحمہ اﷲ تعالٰی عن رجل انہ اتخذ ضیافۃ فاوقدفیھا الف سراج وقال لہ رجل قداسرفت فقال لہ ادخل فکلما اوقد تہ لغیر اﷲ |
یعنی امام اجل عارفِ اکمل، سند الاولیاء حضرت سید نا امام ابوعلی رودباری رضی اﷲ تعالٰی عنہ (کہ اجلّہ اصحاب سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہیں ۳۲۲ ہجری میں وصال شریف ہے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع