30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علماء فرماتے ہیں یعنی یُوں درود شریف پڑھو : اللّھم صل علٰی رُوح سیدنا محمد فی الارواح اللّٰھم صل علی جسد سیدنا محمد فی الاجسام اللّٰھم صلّ علٰی قبر سیدنا محمد فی القبور۔قبر کریم پر درود بھیجنے کا حکم ہوا، اور دورد وہ تعظیم ہے کہ بالاستقلال انبیاء وملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام کے سواکسی کے لیے جائز نہیں۔
(۳۸) رہی تیسری وجہ کہ وہ آثار جہنم سے ہے۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی۔
اقول: اس کی غایت ایك تفاول ہے وہ ا س قابل نہیں کہ جس کے لحاظ نہ کرنے پر مسلمان لعنت کا مستحق ہو، تو یہ اس کی تو جیہ نہیں ہوسکتہی، شرع کوا یسی فالوں کا اتنا عظیم لحاظ ہوتا تو میّت کو گرم پانی سے نہلانے کا حکم نہ ہوتا کہ وہ بھی آثار جہنم سے ہے۔ قال اﷲتعالٰی:
|
یُصَبُّ مِنۡ فَوْقِ رُءُوۡسِہِمُ الْحَمِیۡمُ ﴿ۚ۱۹﴾ [1]۔ |
اس ( جہنمی) پر انکے سروں کے اوپر سے گرم پانی بہایا جائے گا۔ (ت) |
حالانکہ وہ شرعًا مطلوب ہے۔ درمختارمیں ہے :
|
یصب علیہ ماء مغلی بسدران تیسر والا فماء خالص [2] ۔ |
اس (میّت) پر بیری جوش دیا ہو ا پانی بہایا جائے اگر میسر ہو، ورنہ سادہ پانی ۔(ت) |
ردالمحتار ونہر الفائق میں ہے :
|
افادان الحار افضل سواء کان علیہ وسخ اولا۔ [3] |
اس سے مستفادہوا کہ گرم پانی بہتر ہے میّت کے جسم پر میل ہو یا نہ ہو ۔(ت) |
اور بفرضِ تسلیم ا س کا محل وہی ہے کہ خاص قبروں پر چراغ رکھیں کہ فال ہے تو اس میں ہے نہ کہ اس کے گرد یا مناروں یا احاطہ کی دیواروں پر"علماء نے تفاول کے سبب جب پکی اینٹ قبر میں لگانی مکروہ بتائی کہ وہ آگ دیکھے ہوئے ہے والعیاذ باﷲ تعالٰی، تصریح فرمائی کہ یہ اس صور ت میں ہے کہ خاص لحد پر پختہ اینٹیں لگائیں جو قریب میّت ہے ورنہ بالائے قبر اس میں حرج نہیں ،یہ خود آگ ہے۔ اس میں بالائے قبر بھی حرج ہے مگر حول میں حرج
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع