30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوتارا کہتے ہیں کہ اسے ذلیلوں خبیثوں شیطانوں کے لیے کرتے ہیں، اور نذور کہ مزارات طیبہ کے حضور لاتے ہیں اسے چڑھاوا کہتے ہیں کہ بلند مرتبہ معظموں کے حضور پیش کرتے ہیں، یہ اتار چڑھاؤ باعتبار مرتبہ ہے۔ نہ باعتبار جہت تحت و فوق۔ او رنہ سہی اگر ایك جگہ کوئی لفظ معنی مجازی میں مستعمل ہو تو اس کے حوالے سے دوسری جگہ بھی خواہی نخواہی اسے حقیقت سے توڑ کر مجاز پر ڈھالنا کون سی منطق ہے!
(۳۵) ملا قاری نے جو اس حدیث میں علٰی کو معنی حقیقی پر لیا، زید صاحب اس کی توجیہ یہ فرماتے ہیں کہ وجہ ممانعت یعنی مشابہت یہود ونصارٰی معنی مجازی یعنی قریب قبر میں نہیں رہتی، اس بنیاد پر معنی حقیقی لیے، یعنی معنٰی حقیقی ہی لینا محتاج وجہ خارجی ہے، اگر خارج سے کوئی وجہ اس کی نہ ملے تو معنی حقیقی نہ لیں گے، اس اُلٹی سمجھ کا کیا ٹھکانا ہے ! علامہ ملا قاری کی عبارت دیکھئے:
|
قیدعلیھا یفید اتخاذ المساجد بجنبھا لابأس بہ [1]۔"علیھا" |
( قبروں پر) کی قید یہ افادہ کررہی ہے کہ ان کے پہلو میں مسجد بنائیں توکوئی حرج نہیں (ت) |
ملاحظہ ہو لفظِ"علی"سے یہ ثابت کیا کہ برابر تو حرج نہیں یا برابر میں حرج نہ ہونے سے علی کو اپنے معنی حقیقی پرلیا۔
(۳۶) علی قار ی جب یہاں دربارہ مسجد علی کو معنی حقیقی پر لے چکے ، جو آپ کو بھی مسلّم ہے۔ اور یہاں ایك ہی لفظ علٰی ہے جس سے مساجد و سرج کا یکساں علاقہ ہے کہ والمتخذین علیھا المساجد والسرج [2]( قبروں پر مسجدیں اور چراغ بنانے والے ۔ت) اب اگر دربارہ قبورعلٰی کو معنی مجازی پرلیجئے تو کھلا ہو ا جمع بین الحقیقۃ والمجاز اور وہ باطل ہے۔ لاجرم دربارہ قبور بھی علٰی کو معنی حقیقی پر رکھیں گے، تو جس نے ان کی طرف اسے نسبت کیا ان کے لازم کلام سے استدلال کیا یہ ان پر اتہام کدھر سے ہوجائے گا۔
(۳۷) علی قاری نے دربارہ سُرج جو تین وجہ ممانعت نقل کرکے لکھا : کذا قال وبعض علمائنا [3](ایسا ہی ہمارے بعض علماء نے فرمایا ۔ت) قطع نظر اس کے کہ یہ نقل عن المجہول ہے او رہمارے فقہاء نے اسی وجہ اول پر اقتصار فرمایا ہے کہ اسراف واتلافِ مال ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اور یہی وجہ خود آپ کی مستند بزازیہ میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع