30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی اسنادہ من یتھم بالکذب ولایکون الحدیث شاذا ویرویہ من غیروجہ نحو ذالك فھو عند نا حدیث حسن [1]۔ |
سند میں کوئی متہم بالکذب نہ ہو، نہ ہی وہ حدیث شاذ ہو، اور ایسے ہی متعدد طُرق سے مروی ہو، وہ ہمارے نزدیك حدیث حسن ہے ۔(ت) |
(۳۲)حدیث مانعین سے تین۳ جواب ہیں:
پہلا یہ کہ حدیث سرے سے صحیح ہی نہیں اور سب میں اخیر تنزل کا جواب کہ امام نابلسی کے ارشاد سے گزرا۔ اور اوسط جواب یہ ہے کہ حدیث میں لفظ علٰی ہے اس سے قبر پر چراغ رکھنے کی ممانعت ہوئی،اسے ہم بھی تسلیم کرتے ہیں، ظاہر کہ علٰی کے معنی حقیقی یہ ہیں ، اور حقیقت سے بلا ضرورت عدول نا مقبول ، وہ عدول ہی تاویل ٹھہرے گا۔ اور اگر وجہ موجّہ نہ رکھتا ہو مردود رہے گا۔
تاویل یہ ہے کہ لفظ کو اس کے معنٰی ظاہر سے پھرا جائے ، مگر طرفہ یہ کہ زید نے معنی حقیقی مراد لینے کا نام تاویل رکھا او رتاویل بھی کیسی ضعیف ، اور نہ صرف ضعیف بلکہ معاذ اﷲ حدیث کے ساتھ مضحکہ۔ اس ظلم شدید کی کوئی حد ہے۔ او رنہ دیکھا کہ امام علامہ نابلسی قدس سرہ القدسی اس حدیث کی شرح میں کیا فرماتےہیں:
|
المتخذین علیھا ای القبور یعنی فوقھا [2] ۔ |
قبروں پر یعنی ان کے اوپر ۔ (ت) |
دیکھو اس معنی حقیقی کی تصریح فرمائی جسے زیدنے معاذ اﷲ مضحکہ بنایا۔
(۳۳) کریمہ لنتّخذن علیھم مسجدا میں ضمیر جانب اصحابِ کہف ہے ، اور آدمی کے جسم کے اوپر مسجد بنانے کے کوئی معنٰی نہیں تو مجاز متعین ہے، بخلاف حدیث کہ اس میں ضمیر جانب قبور ہے۔ اور قبر پر چراغ رکھنا ممکن، بلکہ بعض جگہ عوام سے واقع ہے ، تو اسے آیت پر قیاس کرنا محض سُوئے فہم ہے۔ وہ چمك کر کہا تھا کہ"کیا اس کے یہ معنی ہیں اصحاب کہف کے سینہ پر سنگ بنیاد مسجد کا رکھیں گے۔"وہ خود اپنے شبہہ کے پاؤں میں تیشہ ہے۔ یہ معنی صحیح نہ ہونا ہی حقیقت سے صاف اور مجاز کا قرینہ ہوا، یہاں کہ بے تکلف معنی حقیقی بن رہے ہیں ا ن سے پھیرنے والا کون، اور مجاز کے لیے بے قرینہ کیا۔
(۳۴) دوسری مثال قبر پر چڑھاوا چڑھانے کی دی ، اور نہ سمجھا کہ یہاں مجاز لفظ"پر"میں نہیں کہ علی بمعنی عند ہو، جس طرح تم حدیث میں لے رہے ہو، قبر کے نزدیك کسی چیز کے چڑھانے کے کیا معنی ، بلکہ مجاز خود یہاں چڑھاوے کے لفظ میں ہے۔ صدقہ کہ جُہّال کسی مریض وغیرہ کے لیے چورا ہے میں رکھتے ہیں اسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع