30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قندیل تجاہ وجہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ [1] |
بے بہا سے مرصع رُوئے انور سید اطہر صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مواجہ اقدس میں آویزاں کی گئی ۔ |
وقرئت الفواتح وحصل الدعاء [2]۔حاضرین نے فاتحہ پڑھی او ردعا کی، اور مجلس بخیر وخوبی ختم ہوئی ۔علامہ ممدوح اس حکایت کا خاتمہ ان لفظوں میں فرماتے ہیں:
|
وھو اول من علق قنادیل الذھب فی الحرمین الشریفین من سلاطین اٰل عثمان خلد ا ﷲ تعالٰی سلطنتھم وقد سبق بھذہ المنقبۃ الشریفۃ اٰبائہ السلاطین العظام [3] ۔ |
یعنی سلاطین آل عثمان میں کہ ا ﷲ عزوجل ان کی سلطنت کو ہمیشہ رکھے، سلطان مرادخاں نے اس کی پہل کی کہ حرمین محترمین میں سونے کی قندیلیں آویزاں کیں، وہ اس عظیم منقبت میں اپنے باپ داداسلاطین پر سبقت لے گئے۔ |
اس خاتمہ سے دو۲ فائدے ظاہر ہوئے، ایك یہ کہ سلاطین عثمانیہ سے پہلے سلاطین بھی سونے کی قندیلیں حاضر کرتے، سلاطین عثمانیہ سے پہلے یہ سعادت سلطان محمد مرادخاں نے پائی ۔ دوسرے یہ کہ علامہ ممدوح ا س کا استحسان فرماتے ، اور اسے منقبت شریفہ بتاتے ہیں۔
اب پھر عبارات سابقہ خلاصۃ الوفاء کی طرف رجوع کیجئے ا وروہ سنئیے جوا مام ممدوح سیدی نورالدین سمہودی اس عبارت کے اثناء میں اس جانفرا روشنی کے بیان میں حکم فرماتے ہیں وہ عبارت یہ ہے:
|
وقد الف السبکی تالیفا سماہ تنزیل السکینۃ علٰی قنادیل المدینۃ وذھب فیہ الی جوازھا وصحۃ وقفھا وعدم جواز صرف شیئٍ منھا لعمارۃ المسجد [4]۔ |
بیشك امام اجل تقی الملۃ والدین علی بن عبدالکافی متوفی ۷۵۶ ھ رحمہ اﷲ تعالٰی نے خاص اس باب میں ایك کتاب تالیف فرمائی جس کانام"تنزیل السکینۃ علٰی قندیل المدینۃ"رکھا اور اس کتاب میں ا ن کا وقف صحیح ہونا بیان فرمایاا ور یہ کہ ان کو مسجد کی عمارت میں صرف کرنا جائز نہیں۔ |
یہ امام اجل وہ ہیں جن کی نسبت امام ابن حجر فرماتے ہیں: الا مام المجمع علٰی جلالتہ واجتھادہ [5]یہ وہ امام کہ ان کی جلالتِ شان وقابلیت اجتہاد پر اجماع ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع