30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علامہ قطب الدین مکی حنفی معاصرامام ابن حجر مکی رحمہما اﷲ تعالٰی کتاب الاعلام باعلام بیت الحرام ص ۳۰ میں اس واقعہ کا ذکرفرماتے ہیں، جب سلطان مراد خان بن سلطان سلیم خان بن سلیمان خان رحمہم الرحمن نے ۹۸۴ ھ میں باب عالی سے سونے کی تین قندیلیں بیش بہا جواہرات سے مرصّع محمد چادیش خان کے ہاتھ حاضر کی ہیں کہ وہ کعبہ معظمہ کے اندر آویزاں کی جائیں، اور ایك حجرہ مزار اطہر میں چہرہ انور کے مقابل صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم ۔
جب مکہ معظمہ میں آئے حضرت شریف مکہ سیدی حسن بن ابی نہی حسنی اور ناصر حرم محترم قاضی مدینہ منورہ شیخ الاسلام سید العلماء سیدی حسین حسینی مکی اور قاضی مکہ معظمہ مولانا مصلح الدین لطفی بگ زادہ مع جملہ اعیان واکابر حرم محترم حاضر ہوئے،۔ فرماتے ہیں: وکافۃ العلماء والفقھاء والموالی [1]یعنی مکہ معظمہ کے تمام علماء وفقہاء وسردار گرد کعبہ معظمہ جمع ہوئے، پھر آستانہ عالیہ کی طرف سے حضرت شریف ودیگر عظماء کو خلعت پہنائے گئے، کعبہ معظمہ کا دروازہ کھولا گیا، سیدنا الشریف نے خلعت پہنا اور طوافِ کعبہ معظمہ کیا، ادھر وہ طواف میں ہیں، اُدھر رئیس مؤذنان قبہ زمزم پر سلطنت وشریف کے لیے بآواز بلند دعا کررہاہے اور تمام حاضرین دعا وآمین میں مشغول ہیں، بعد فراغ طواف ورکعتین طواف حضرت شریف کعبہ معظمہ کے اندر حاضر ہوئے اور اپنے دست مبارك سے قندیلیں آویزاں کیں، سب حاضرین جملہ علماء وفقہاء واُمراء وعظماء نے فاتحہ پڑھی اور دُعائیں کیں، اور جلسہ ختم ہوا، علامہ ممدوح فرماتے ہیں:
|
وکان یومًا شریفًا مشہودًا ووقتًا مبارکًا متیمنا مسعودا [2]۔ |
او روہ دن بزرگ اور تمام اعیانِ مکہ کی حاضری کا تھاا وروہ وقت مبارك اورفرخندہ باسعادت تھا۔ |
پھر محمد چادیش باقی قندیل لے کر سرکار ارعظم مدینہ طیبہ حاضرہوئے، علامہ فرماتے ہیں :
|
واجتمعت لہ اکابر المدینۃ الشریفۃ واعیانھا وعلماؤھا وصلحاؤھا ۔[3] وعمل محفل شریف فی الحرم الشریف البنوی [4]۔ وفتحت الحجرۃ الشریفۃ النبویۃ علی ساکنھا افضل الصلٰوۃ وعلق ذلک |
ان کے پاس مدینہ طیبہ کے اکابر وعمائد وعلماء وصلحاء سب جمع ہوئے۔ حرم کریم میں محفلِ عظیم منعقد کی گئی۔ حجرہ طاہرہ مزار پرانوار حضرت سید الابرار صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کھو لاگیا اور وہ سو نے کی قندیل جواہر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع