30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے ہو سب ناجائز ہے۔ اس دلیل کی خوبی اس کے کبرٰی کی کلیت سے ظاہر قرآن پر اعراب لگانا تو شاید سخت ہی بدتر کام ہوگا کہ حجاج جیسے ظالم اظلم کی طرف سے ہے ۔
(۲۵) سلطانِ اسلام سے فارغ ہوکر حرمین شریفین کی طرف متوجہ ہوئے کہ وہاں کا بڑا حصہ ڈاڑھی کترواتاہے، الحمد ﷲ کہ کلیہ نہ کہا، ہر جگہ ہمیشہ بڑا حصہ عوام کا ہوتا ہے۔ اگر عام طور پر صدہا سال سے ایك فعل کریں اور وہ بھی مسجد میں، اور وہ بھی مسجد اقدس سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں، اور وہ بھی کارِ خیر وموجب اجر وتعظیم شعائرا ﷲ واجلال حرمات اﷲ جان کر ۔ بااینہمہ جماہیر علماء روزانہ دیکھیں ا ور منع نہ فرمائیں توا ستناد تقریر علماء سے ہوگا نہ کہ فعلِ عوام سے۔
(۲۶) خود ہی سمجھ کر تعامل ہے نہ مجرد عمل عوام اس کا یہ علاج کیا کہ تعامل حرمین شریفین کا بعد قرون ثلثہ کے سند نہیں۔ قرون ثلثہ کی تخصیص کا قضیہ ہمارے رسالہ ردّ وہابیہ میں جابجا ہوچکا اور مسئلہ تعامل حرمین شریفین بھی کتاب مستطاب"اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد"قاعدہ یازدہم میں واضح فرمادیا گیا، یہاں اسی قدر کافی کہ شیخ محقق جذب القلوب شریف میں حدیث صحیح بخاری : انھا طیبۃ تنفی الذنوب کما تنفی الکیر خبث الفضۃ (بیشك وہ طیبہ ہے، گناہوں کو دور کرتا ہے جیسے بھٹی چاندی کا میل دور کرتی ہے ۔ت) وغیرہ بیان کرکے فرماتے ہیں:
|
"مراد نفی وابعاد اہل شرو فساداست ازساحت عزت ایں بلدہ طیبہ وبقول اکثر علمائے دین خاصیت مذکورہ دروے درجیمع ازمان ودہور پیداست[1]۔" |
اس شہر پاك کی سرزمین سے شرفساد والوں کو دور کرنا مراد ہے ا ور اکثر علمائے دین کے بقول اس میں یہ خاصیت ہر دور اور ہر زماے میں ہے ۔ت) |
صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
|
ان الایمان لیار زالی ا لمدینۃ کما تارز الحیۃ الٰی جحرھا [2]۔ |
بیشك ایمان مدینہ کی طرف سمٹتا ہے جیسے سانپ اپنے بل کی طرف۔ |
امام قرطبی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
|
فیہ تنبیہ علی صحۃ مذھبھم وسلامتھم من البدع وان عملھم حجۃ فی ماننا [3] ۔ |
اس حدیث شریف میں تنبیہ ہے اس پرکہ ان کا مذہب صحیح ہے اور وہ بدعتوں سے پاك ہیں ان کا عمل ہمارے زمانہ میں حجت ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع