30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام محب الدین طبری متوفی ۶۹۴ ہجری ، وکتاب تاریخ المدینہ للامام الجلیل ابی محمد عبداﷲ المرجانی میں مذکور و ماثور ہے، اوران سب سے پہلے خادمِ روضہ مطہرہ نے امام ابوعبدا اﷲ قر طبی کے سامنے اسے روایت کیا ، اس کی اصل خود امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ثابت ۔ بلاذری نے ابو سعید مولٰی ابی اسید رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔
|
قال کان عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ یعس فی المسجد بعد العشاء فلا یری احدا لااخرجہ الارجلا قائما یصلی ۔[1] |
فرمایا: امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نماز عشاء کے بعد مسجد کریم میں دیکھ بھال کے لیے دورہ فرماتے جسے دیکھتے مسجد سے باہر فرمادیتے مگر جو شخص کھڑا نماز پڑھ رہا ہو۔ |
بااینہمہ مسجد کریم میں صبح تك روشنی رہتی ہے۔ اور فقہائے کرام نے اس کے جواز کی تصریح فرمائی ۔ وہی بزازیہ کتاب الوقف فصل رابعہ ملاحظہ کیجئے،
|
یجوز ترك سراج المسجد فیہ من المغرب الی العشاء لاکل اللیل الااذاجرت العادۃ بذلك کمسجد سیدنا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم [2]۔ |
جائزہے مسجد کے چراغ کا مسجد میں چھوڑنا مغرب سے عشاء تك نہ کہ تمام شب، مگر جب کہ اس کی عادت ہو جیسے کہ مسجد نبوی صلی اﷲ تعالٰی علیہ والہٖ وسلم۔ |
اس سے بھی روشن کہ یہ روشنی نمازیوں کے لیے نہیں ہے بلکہ روضہ اقدس کے لیے ہیے او ر ہم عنقریب کلام ائمہ اس کی تصریح نقل کریں گے۔ وباﷲ التوفیق۔
(۲۱) زید صاحب نے یہ روشنی مزار اطہر کے لیے نہ ہونے کی وہ بھاری دلیل گھڑی جس کے بوجھ میں خود ہی دب کر رہے۔ ذرایہ نئی منطق جہاں بھر سے بھی جدا منطق الطیر سے سوا' ملاحظہ ہو کہ"قبر شریف در حقیقت روپوش ہے بھلا روشنی اس کے لیے ہوسکتی ہے"گویا جو شے نظر نہ آئے اس سے اعتناء اس کی تکریم ہو ہی نہیں سکتی ۔اہل اﷲ پر عبادت قبورکا الزام رکھا تھا جس کی تکذیب کو ان کا اہل اﷲ ہونا ہی بس تھا مگر کہیں یہ مسئلہ عباد صنم کی تائید نہ کرے، وہ یہی کہتے ہیں کہ بے دیکھے تعظیم کیسی؟
(۲۲) حجرہ مطہرہ کی آرائش او راس پر وہ ہزارہا روپے کی تیاری کا غلاف شریف یہ بھی شاید مسجد ہی کے لیے ہو کہ مزار کریم تو مستور ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع