30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاوٰی ٰخانیہ وفتاوٰی عٰلمگیریہ وغیرہ میں ہے :
|
لاباس بان یترك سراج المسجد الی ثلث اللیل ولایترك اکثر من ذلك الااذا شرط الواقف ذلك اوکان ذٰلك معتادًا فی ذٰلك الموضع [1] ۔ |
مسجد کا چراغ مسجدمیں تہائی رات تك جلتا چھوڑ دینے میں حرج نہیں، او راس سے زیادہ نہ جلایا جائے، لیکن جبکہ واقف نے اس کی شرط رکھی ہو یا وہاں اس کا رواج ہو۔ (ت) |
سراج وہاج پھر ہندیہ میں ہے :
|
لو وقف علی دھن السراج المسجد لایجوز وضعہ جمیع اللیل بل بقدر حاجۃ المصلین وجوز الی ثلث اللیل اونصفہ اذا احتاج الیہ للصلٰوۃ فیہ [2]۔ |
اگرمسجد کے چراغ کے لیے وقف کیا تو پوری رات چراغ جلانا جائز نہیں بلکہ تہائی رات تك جواز ہے یا نصف شب تك جبکہ نماز کے لیے اس کی ضرورت ہو ۔(ت) |
اور مسجد اکرم سرکار اعظم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں نماز عشاء کے بعد کوئی رہنے نہیں پاتا، لوگوں کو باہر کرکے سحرتك دروازے بند رکھتے ہیں، اوریہ عادات آج سے نہیں صدہا سال سے ہے۔ امام جلیل ابوالحسن سمہودی کتاب وفاء الوفاء میں جس کی تصنیف ۸۸۶ھ میں فرمائی، پھر اس کے خلاصہ خلاصۃ الوفاء میں فرماتے ہیں:
|
یطاف لاخراج الناس من المسجد بعد العشاء الاخرۃ بفوانیس ستۃ رتبھا شیخ الخدام شبل الدولۃ کافور المظفری الحریری وکان الطواف قبلہ بشعل من السعف [3]۔ |
نما زعشاء کے بعدلوگوں کو مسجد کریم سے باہر کرنے کیلئے اب چھ فانوس لے کر دورہ کرتے ہیں جن کو خدام کے شیخ شبل الدولہ کافورالمظفری الحریری نے بنایا ہے جبکہ قبل ازیں کھجور کی شاخ کی شمع سے دورہ ہوتا تھا۔ (ت) |
نیز اس پر اس سے بہت پہلے کی وہ جلیل القدر معجزہ خسف بدخواہان ابوبکر وعمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی عظیم حکایت دال ہے جو اسی کتاب وفاء الوفاء تصنیف ۸۸۶ ہجری ، اور اس سے پہلے کتاب ریاض النضرۃ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع